آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 420
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 420 باب و هم یہ اعتراض کہ رسول ہوتے تو سوالوں سے لاچار اور غلط جواب نہ دیتے ایک عیسائی عبداللہ جیمز نے یہ اعتراض کیا کہ اگر آپ پیغمبر اور رسول اللہ ہوتے تو لوگوں کے سوالوں سے لاچار راور انہیں غلط جواب نہ دیتے۔اس اعتراض کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں کہ : جن خیالات کو عیسائی صاحب نے اپنی عبارت میں بصورت اعتراض پیش کیا ہے وہ در حقیقت اعتراض نہیں ہیں بلکہ وہ تین غلط فہمیاں ہیں جو بوجہ قلت تدبیر اُن کے دل میں پیدا ہوگئی ہیں۔ذیل میں ہم ان غلط فہمیوں کوڈ ور کرتے ہیں۔پہلی غلہ انہی کی نسبت جواب یہ ہے کہ نبی برحق کی یہ نشانی ہرگز نہیں ہے کہ خدائے تعالیٰ کی طرح ہر ایک مخفی بات کا بالاستقلال اس کو علم بھی ہو بلکہ اپنے ذاتی اقتدار اور اپنی ذاتی خاصیت سے عالم الغیب ہونا خدائے تعالیٰ کی ذات کا ہی خاصہ ہے۔قدیم سے اہل حق حضرت واجب الوجود کے علم غیب کی نسبت وجوب ذاتی کا عقیدہ رکھتے ہیں اور دوسرے تمام ممکنات کی نسبت اقتناع ذاتی اور امکان بالواجب عزاسمہ کا عقیدہ ہے۔یعنی یہ عقیدہ کہ خدائے تعالیٰ کی ذات کے لئے عالم الغیب ہونا واجب ہے اور اس کی بیوست محمد کی یہ ذاتی خاصیت ہے کہ عالم الغیب ہو مگر ممکنات کے جوهالكة الذات اور باطلة الحقیقت ہیں اس صفت میں اور ایسا ہی دوسری صفات میں شراکت بحضرت باری عزاسمہ جائز نہیں اور جیسا ذات کی رو سے شریک الباری ممتنع ہے ایسا ہی صفات کی رو سے بھی ممتنع ہے۔پس ممکنات کیلئے نـظـرا عـلـى ذاتهم عالم الغیب ہونا ممتنعات میں سے ہے۔خواہ نبی ہوں یا محدث ہوں یا ولی ہوں ، ہاں الہام الہی سے اسرا ر غیبیہ کو معلوم کرنا یہ ہمیشہ خاص اور برگزیدہ کو حصہ ملتا رہا ہے اور اب بھی ملتا ہے جس کو ہم صرف تا بعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پاتے ہیں نہ کسی اور میں۔عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ کبھی کبھی اپنے مخصوص بندوں کو اپنے بعض اسرار خاصہ پر مطلع کر دیتا ہے اور اوقات مقررہ اور مقدرہ میں رفح فیض غیب ان پر ہوتا ہے بلکہ کامل مقرب اللہ اسی سے آزمائے