آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 419 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 419

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 419 باب و هم ا اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر ختم کر چکے تو حق کی روشنی دیکھ کر بے اختیار ابو طالب کے آنسو جاری ہو گئے اور کہا کہ میں تیری اِس اعلیٰ حالت سے بے خبر تھا تو اور ہی رنگ میں اور اور ہی شان میں ہے جا اپنے کام میں لگارہ جب تک میں زندہ ہوں جہاں تک میری طاقت ہے میں تیرا ساتھ دوں گا۔اب حاصل کلام یہ ہے کہ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کے اعتراض کا خود اپنی زبان مبارک سے جواب دیا در حقیقت وہی جواب ہر یک معترض کے ساکت کرنے کے لئے کافی و وافی ہے کیونکہ دشنام دہی اور چیز ہے اور بیان واقعہ کا گو وہ کیسا ہی تلخ اور سخت ہو دوسری شے ہے ہر یک محقق اور حق کو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ بچی بات کو پورے پورے طور پر مخالف گم گشتہ کے کانوں تک پہنچا دیوے پھر اگر وہ بیچ کو سن کر افروختہ ہوتو ہوا کرے ہمارے علماء جو اس جگہ لا تسبوا کی آیت پیش کرتے ہیں میں حیران ہوں کہ اس آیت کو ہمارے مقصد اور مدعا سے کیا تعلق ہے۔اس آیت کریمہ میں تو صرف دُشنام دہی سے منع فرمایا گیا ہے نہ یہ کہ اظہار حق سے روکا گیا ہوا گرنا دان مخالف حق کی مرارت اور تلخی کو دیکھ کر دشنام دہی کی صورت میں اس کو سمجھ لیوے اور پھر مشتعل ہو کر گالیاں دینی شروع کرے تو کیا اس سے امر معروف کا دروازہ بند کر دینا چاہئے؟ کیا اس قسم کی گالیاں پہلے کفار نے کبھی نہیں دیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کی تائید کے لئے صرف الفاظا سخت ہی استعمال نہیں فرمائے بلکہ بُت پرستوں کے ان بتوں کو جو اُن کی نظر میں خدائی کا منصب رکھتے تھے اپنے ہاتھ سے توڑا بھی ہے۔اسلام نے مداہنہ کو کب جائز رکھا اور ایسا حکم قرآن شریف کے کس مقام میں موجود ہے بلکہ اللہ جلشانہ مداہنہ کی ممانعت میں صاف فرماتا ہے کہ جولوگ اپنے باپوں یا اپنی ماؤں کے ساتھ بھی ان کی کفر کی حالت میں مداہنہ کا برتاؤ کریں وہ بھی ان جیسے ہی بے ایمان ہیں اور کفار مکہ کی طرف سے حکایت کر کے فرماتا ہے: وَدُّ والوَتُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ (القلم:١٠) یعنی اس بات کو کفار مکہ دوست رکھتے ہیں کہ اگر تو حق پوشی کی راہ سے نرمی اختیار کرے تو وہ بھی تیرے دین میں ہاں میں ہاں ملا دیا کریں مگر ایسا ہاں میں ہاں ملانا خدائے تعالی کو منظور نہیں۔(ازالہ اوہام ، روحانی شتره این جلد نمبر ۳ صفحه ۱۱تا ۱۱۳)