آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 418
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 418 باب دہم کفار کی طرف سے دشنام طرازی کا الزام کفار نے آنحضرت پر دشنام طرازی کرنے کا الزام بھی لگایا۔اس کا جواب حضرت مسیح موعو و علیه السلام ان الفاظ میں تحریر فرماتے ہیں: اس سوال کا جواب ہمارے سید و مولی مادر و پدرم برا و فدا با دحضرت ختم المرسلین سید الاولین والآخرین پہلے سے دے چکے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب یہ آیتیں اتریں کہ مشرکین رجس ہیں پلید ہیں شتر البریہ ہیں سنہاء ہیں اور ذریت شیطان ہیں اور ان کے معبود وقود النار اور حصب جھنم ہیں تو ابو طالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہوگئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی تو نے ان کے عقل مندوں کو سفیہ قرار دیا اور ان کے بزرگوں کوشر البر یہ کہا اور ان کے قابل تعظیم معبودوں کا نام ہیزم جہنم اور وقود الستار رکھا اور عام طور پر ان سب کو رجس اور ذریت شیطان اور پلید ٹھہرایا میں تجھے خیر خواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجاور نہ میں قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا کہ اے چا یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہا ر وا قعہ اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں اگر اس سے مجھے مرنا در پیش ہے تو میں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوں میری زندگی اسی راہ میں وقف ہے میں موت کے ڈر سے اظہار حق سے رک نہیں سکتا اور اسے چا اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کا خیال ہے تو تو مجھے پناہ میں رکھنے سے دست بردار ہو جا بخدا مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں میں احکام الہی کے پہنچانے سے بھی نہیں رکوں گا مجھے اپنے مولی کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں بخدا اگر میں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بار زندہ ہو کر ہمیشہ اسی راہ میں مرتا رہوں۔یہ خوف کی جگہ نہیں بلکہ مجھے اس میں بے انتہا لذت ہے کہ اس کی راہ میں دکھ اٹھاؤں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر کر رہے تھے اور چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رقت نمایاں ہو رہی تھی