آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 417
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 417 باب دہم شرتی کو بہ پستہ خاص معہ ترجمہ لکھ بھی دیں تا کہ ناظرین رائے لگا سکیں کہ آیا وہ بات اس سے نکلتی ہے یا نہیں۔سو اگر اس شرط سے ماسٹر صاحب مقابلہ کر دکھا ئیں یا کوئی اور شخص جو آریوں کے ممتاز علماء میں سے ہو تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو خواہ ماسٹر صاحب ہوں یا منشی اندرمن صاحب مراد آبادی یا منشی جیوند اس صاحب سیکرٹری آریہ سماج لاہور یا کوئی اور صاحب جواس گروہ میں مسلم العلم ہوں سو روپیہ نقد انعام دوں گا اور یہ روپیہ فریق مخالف کی تسلی خاطر کے لئے پہلے ہی کسی فاضل پر ہمو صاحب کے پاس جیسے بابو نو بین چند ر رائے صاحب وپنڈت شیو نارائن صاحب اگنی ہوتری ہیں بطور امانت جمع کرایا جائے گا اور انہیں اختیار ہو گا کہ اگر وہ اپنی رائے میں دیکھیں کہ حقیقت میں آریہ صاحب نے وید کا مقابلہ کر دکھایا تو خود بخو دبغیر اجازت ایں جانب وہ رو پیداس آریہ صاحب کے حوالہ کر دیں۔لیکن اگر اس مضمون کو پڑھ کر پھر بھی ماسٹر صاحب یا ان کے کوئی دوسرے با علم بھائی خاموش رہے اور مجھ کو بوعدہ مقابلہ ایسے رسالہ کی تالیف کے لئے تحریک نہ کی تو پھر تمام ناظرین کو سمجھنا چاہئے کہ ان کی سب آواز میں طبل تہی ہیں اور صادقوں کے طریق پر وہ چلنا چاہتے ہی نہیں۔بھلا یہ کیا او با شانہ طریق ہے اول خدائے تعالیٰ کی پاک کلام اور اس کے کامل نبی کی نسبت بنک اور توہین کے کلمات مونہہ پر لائیں اور جب مقابلہ وید و قرآن کے لئے کہا جائے تو پھر ایسے چپ ہوں کہ کو یا دنیا سے کوچ کر گئے۔ناظرین سوچ لیں کہ اس سے بڑھ کر اور کیا صفائی کی بات ہوگی کہ ہم مغلوب ہونے کی حالت میں سو روپیه نقد و یا وعدہ کرتے ہیں اور غالب ہونے کی حالت میں ہم کچھ بھی نہیں ما نگتے صرف یہ امید رکھتے ہیں کہ کوئی روح بے راہی کے طریق سے نادم ہو کر سچائی کا طریق اختیار کرے۔سو اب ہم منتظر رہیں گے کہ کب لالہ مولید ھر صاحب یا ان کے کوئی اور آریہ بھائی جو اپنی قوم میں امتیاز علمی رکھتے ہوں ایسی درخواست کریں گے۔ناسیہ روئے شو دہر کہ دروغش باشد۔سرمه چشم آرید، روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفحه ا۷ ۱تا ۱۸۳)