آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 416 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 416

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 416 باب دہم تعالی کی پیدائش ہے اب ماسٹر صاحب ! دیکھا کہ یہ کیسی اعلیٰ اور عمدہ صداقت ہے جس کو ایک مختصر آیت اور چند معد و لفظوں میں خدائے تعالیٰ نے ادا کر دیا۔اس کے مقابلہ پر اگر آپ وید کے عقیدہ کو سوچیں تو جتنا شرمندہ ہوں اتنا ہی تھوڑا ہے اسی وجہ سے تو ہم نے آپ کو ایک خاموش درویش کا قصہ سنایا اگر آپ ایسے ایسے فضول اور خام شبہات کے پیش کرنے سے زبان بند رکھتے تو ہمیں آپ کی حیثیت علمی پر وہ شک نہ پڑتا جواب پڑ گیا ہے۔بالآخر ہم یہ بھی لکھا چاہتے ہیں کہ اگر ماسٹر صاحب کے دل میں یہ خیال ہے کہ قرآن شریف میں علم روح بیان نہیں کیا گیا اور ویل میں بیان کیا گیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیفیت روح سے کچھ خبر نہ تھی مگر وید کے بہ چاروں رشیوں کو خبر تھی تو اس بات کا تصفیہ نہایت سہل اور آسان ہے اور وہ یہ ہے کہ ماسٹر صاحب مقابلہ کرنے کے عہد پر ہم کو اجازت دیں تا ہم علم روح کو جو قرآن شریف میں لکھا ہے جس سے معرفت کاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم و کمالیت قرآن شریف ثابت ہوتی ہے ایک مستقل رسالہ میں مرتب کر کے بحوالہ آیات قرآنی شائع کر دیں اور جب یہ رسالہ ہماری طرف سے چھپ کر شائع ہو جائے تو اس وقت ماسٹر صاحب پر واجب و لازم ہوگا کہ اس کے مقابل پر وید کی شرتیوں کے ساتھ ایک رسالہ مرتب کریں، جس میں روح کے بارے میں وید کی فلاسفی بیان کی گئی ہے کہ وہ کیونکر غیر مخلوق اور خدا کی طرح قدیم اور خدا سے الگ چلی آتی ہے اور اس سے خواص کیا کیا ہیں مگر ہم دونوں فریقوں پر لازم ہوگا کہ اپنی اپنی کتاب سے باہر نہ جائیں اور کوئی خودتراشیدہ خیال پیش نہ کریں۔بلکہ وہی بات پیش کریں جو اپنی کتاب الہامی نے پیش کی ہے اور اس آیت یا عظمندوں کی عقل ناقص کی تراش و خراش پر بہت اعتراض اٹھتے ہیں اور ان کو آخر کا ر نہایت شرمساری سے مونہہ کے کل گرنا پڑتا ہے اور پھر انجام کار بہت خوار اور ذلیل ہو کر اسی بات کا اقرار کرتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی بے انتہا عجیب وغریب قدرتوں کا احاطہ کرنا انسان کا کام نہیں۔هر چه دانا کند کند ما دان لیک بعد از کمال رسوائی هنا