آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 415 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 415

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 415 باب دہم کلام یہ کہ بسیط چیز کا عدم محض سے پیدا کرنا عالم امر میں سے ہے اور مرکب چیز کوکسی شکل یا ہیئت خاص سے متشکل کرنا عالم خلق سے ہے جسے اللہ تعالیٰ دوسرے مقام میں قرآن شریف میں فرماتا ہ الا له الخَلْقُ وَالْأَمْرُ (الاعراف: ۵۵ ) نے بسالک کا عدم محض سے پیدا ہے۔کرنا اور مرکبات کو ظہو ر خاص میں لانا دونوں خدا کا فعل ہیں اور بسیط اور مرکب دونوں خدائے کی ٹوپی پر پڑے۔پس و سرخی جو ایک امر کشفی تھا وجود خارجی پکڑ کر نظر آ گئی۔اسی طرح اور کئی مکاشفات میں جن کا لکھنا مو جب تطویل ہے مشاہدہ کیا گیا ہے اور اپنے ذاتی تجارب سے ثابت ہو گیا جو بلاشبہ امور کشفیہ کبھی کبھی باز نہ تعالیٰ وجود خارجی پکڑتے ہیں یہ امور عقل کے ذریعہ سے ہرگز ذہن نشین نہیں ہو سکتے بلکہ جو شخص عقل کے گھمنڈ اور غرور میں پھنسا ہوا ہے وہ ایسی باتوں کو سنتا ہے نہایت تکبر سے کہے گا کہ یہ سراسر محال اور خیال باطل ہے اور ایسا کہنے والا یا تو دروغگو ہے یا دیوانہ یا اس کو سادہ لوحی کی وجہ سے دھوکا لگا ہے اور یہ باعث نقصان تحقیق بات کی تہ تک پہنچنے سے محروم رہ گیا ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ان عقلمندوں کو کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ و ہا مور جن کی صداقت پر ہزا رہا عارف و راست با را پنے ذاتی تجارب سے شہادتیں دے گئے ہیں۔اور اب بھی دیتے ہیں اور صحبت گزین پر ثابت کر دینے کے لئے بفضلہ تعالی اپنی ذمہ داری لیتے ہیں کیا وہ ایسے خفیف امور ہیں جو صرف منکرانہ زبان ہلانے سے باطل ہو سکتے ہیں اور حق بات تو یہ ہے کہ عالم کشف کے عجائبات تو ایک طرف رہے جو عالم عقل ہے یعنے جس عالم ایک عقل کی رسائی ہونا ممکن ہے اس عالم کا بھی ابھی تک عقل نے تصفیہ نہیں کیا اور لاکھوں اسرا راہی پردہ غیب میں دبے پڑے ہیں۔جن کی عظمندوں کو ہوا تک نہیں پہنچی۔ایک فصلی لکھی جو پلید اور نا پاک زخموں پر بیٹھتی ہے اور اکثر گدھے یا بیل وغیرہ جو زخمی اور مجروح ہوں ان کو ستاتی ہے اس کے اس عجیب خاصہ پر کوئی فلسفی دلیل عقلی نہیں بتلا سکتا کہ وہ اکثر یہ سات میں تکون کے طور پر پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی اولا دصرف کیڑے ہوتے ہیں کہ جو ایک ایک سیکنڈ میں دس دس میں میں تمہیں تمہیں اس کے اندر سے نکلتے جاتے ہیں کیا یہ عقل کے بر خلاف ہے یا نہیں کہ ما دیا ور کر دونوں نوع واحد میں داخل ہوں اور ان کے بچے ایسے ہوں کہ اس نوع سے جنگی خارج ہوں۔ایسا ہی اگر چھپکلی کو ( جس کو پنجاب میں کرلی کہتے ہیں ) درمیان سے کانا جائے تو اس کا نیچے اور اوپر کا دھڑ دونوں الگ الگ تڑپتے ہیں اور مضطربا نہ حرکت کرتے ہیں اگر بقول پنڈت دیانند صاحب روح بھی جسم کی قسم ہے تو اس سے ضرور لازم آتا ہے کہ روح دوٹکڑے ہو گیا ہو اور اگر روح کو جسم اور جسمانی ہونے سے منزہ خیال کریں اور اس کا تعلق جسم سے ایسادی مجبول الکیفیت و بر تر از عقل و فہم خیال کریں جیسے روح کا حدوث برتر از عقل و فہم ہے تو پھر البتہ کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ہاں پنڈت دیانند کا منذ ہب جڑھ سے اکھڑنا ہے۔اسی طرح