آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 414
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 414 باب و ہم کو پیدا کرتی ہے اور دونوں طور کے پیدا کرنے میں پیدا شدہ چیزوں کے الگ الگ نام رکھے جاتے ہیں۔جب خدائے تعالیٰ کسی چیز کو اس طور سے پیدا کرے کہ پہلے اس چیز کا کچھ بھی وجود نہ ہو تو ایسے پیدا کرنے کا نام اصطلاح قرآنی میں امر ہے اور اگر ایسے طور سے کسی چیز کو پیدا کرے کہ پہلے وہ چیز کسی اور صورت میں اپنا وجود رکھتی ہو تو اس طر ز پیدائش کا نام خلق ہے خلاصہ صد با عجائبات کو عارف بچشم خود دیکھتا ہے اور ان کور باطنوں کے انکار سے تعجب پر تعجب کرتا ہے۔جواس عالم ثالث کے عجائبات سے قطعاً منکر ہیں۔راقم رسالہ ہذا نے اس عالم ثالث کے عجائبات اور نادر مکاشفات کو قریب پانچ ہزار کے چشم خود دیکھا اور اپنے ذاتی تجربہ سے مشاہد ہ کیا اور اپنے نفس پر انہیں وارد ہو تے پایا ہے۔اگر ان سب کی تفصیل لکھی جائے تو ایک بڑی بھاری کتاب تالیف ہو سکتی ہے۔ان سب گجائبات میں سے ایک بڑی عجیب بات یہ ثابت ہوئی ہے کہ بعض کشفی امور جن کا خارج میں نام و نشان نہیں محض قدرت غیبی سے وجود خارجی پکڑ لیتے ہیں اگر چہ صاحب فتوحات وفصوص و دیگر اکثرا کاسه متصوفین نے اس بارے میں بہت سے اپنے خود گذشت قصے اپنی تالیفات میں لکھے ہیں لیکن چونکہ دید و شنید میں فرق ہے اس لئے مجرد ان قصوں کی سماعت سے ہم کو وہ کیفیت یقینی حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔جو اپنے ذاتی مشاہدہ سے حاصل ہوئی۔ایک مرتبہ مجھے یاد ہے کہ میں نے عالم کشف میں دیکھا کہ بعض احکام قضاء و قدر میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں کہ آئندہ زمانہ میں ایسا ہوگا اور پھر اس کو دستخط کرانے کے لئے خداوند قادر در مطلق جل شانہ کے سامنے پیش کیا ہے (اور یا د رکھنا چاہئے کہ مکاشفات اور رویا صالحہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعض صفات جمالیہ یا جلالیہ الہیہ انسان کی شکل پر متمثل ہو کر صاحب کشف کو نظر آ جاتے ہیں اور مجازی طور پر وہ یہی خیال کرتا ہے کہ وہی خداوند قادر مطلق ہے اور یہ امرا رباب کشوف میں شائع و متعارف و معلوم الحقیقت ہے جس سے کوئی صاحب کشف انکار نہیں کر سکتا ) غرض وہی صفت جمالی جو بعالم کشف قوت متخیلہ کے آگے ایسی دکھلائی دی تھی جو خداوند قادر مطلق ہے اس ذات بے چون و بے چیگون کے آگے وہ کتاب قضا وقدر پیش کی گئی اور اس نے جو ایک حاکم کی شکل پر متمثل تھا اپنے قلم کو سرخی کی دوات میں ڈبو کر اول اس سرخی کو اس عاجز کی طرف چھڑ کا اور بقیہ سرخی کا قلم کے مونہہ میں رہ گیا اس سے اس کتاب پر دستخط کر دیئے اور ساتھ ہی وہ حالت کشمیہ دور ہو گئی اور آنکھ کھول جب خارج میں دیکھا تو کئی قطرات سرخی کے تازہ بہ تازہ کپڑوں پر پڑے چنانچہ ایک صاحب عبد اللہ نام جو سنور ریاست پٹیالہ کے رہنے والے تھے اور اس وقت اس عاجز کے پاس نزدیک ہو کر بیٹھے ہوئے تھے دو یا تین قطر سرخی کے ان