آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 413
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 413 باب دہم تھا کہ روح عالم امر میں سے ہے اور تم ان الہی بھیدوں کواے کا فرو کیا جانو ایمان لاؤ تا تمہیں روح کی کیفیت اور اس کے علوم معلوم ہوں اور یہ جو خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روح عالم امر میں سے ہے جس پر ماسٹر صاحب نے اپنی خوش نہی سے جھٹ پٹ اعتراض بھی کر دیا یہ ایک بڑی بھاری صداقت کا بیان ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ ربو بیت الہی دوطور سے نا پیدا چیزوں جواد مطلق نے عالم اول کے ادنی اونی امور کے دریافت کرنے کے لئے انسان کو حواس و طاقتیں عنایت کی ہیں وہ تیسرے عالم کے معظم اور عالی شان امور کے دریافت سے جس سے حقیقی اور کامل تعلق خدائے تعالیٰ سے پیدا ہوتا ہے اور کچی اور یقینی معرفت حاصل ہو کر اسی دنیا میں انوار نجات نمایاں ہو جاتے ہیں کیوں انسان کو محروم رکھتا بے شک یہ طریق بھی دوسرے دونوں طریقوں کی طرح کھلا ہوا ہے اور صادق لوگ بڑے زور سے اس پر قدم مارتے ہیں اور اس کو پاتے ہیں اور اس کے ثمرات حاصل کرتے ہیں عجائبات اس عالم ثالث کے بے انتہا ہیں اور اس کے مقابل پر دوسرے عالم ایسے ہیں جیسے آفتاب کے مقابل پر ایک دانہ خشخاش۔اس بات پر زور لگانا کہ اس عالم کے اسرار عقلی طاقت سے بنگی منکشف ہو جا ئیں یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک انسان آنکھوں کو بند کر کے مثلاً اس بات پر زور لگائے کہ وہ قابل رویت چیزوں کو قوت شامہ کے ذریعہ سے دیکھ لے بلکہ عجائبات عالم باطن در باطن سے عقل ایسی حیران ہے کہ کچھ دم نہیں مار سکتی کہ یہ کیا بھید ہے۔روحوں کی پیدائش پر انسان کیوں تعجب کرے اسی دنیا میں صاحب کشف پر ایسے ایسے اسرا رظاہر ہوتے ہیں کہ ان کی گنہ کوسمجھنے میں بنکلی عقل عاجز رہ جاتی ہے۔بعض اوقات صاحب کشف صدہا کوسوں کے فاصلہ سے با وجود حائل ہونے بے شمار حجابوں کے ایک چیز کو صاف صاف دیکھ لیتا ہے بلکہ بعض اوقات عین بیداری میں باز نہ تعالیٰ اس کی آواز بھی سن لیتا ہے اور اس سے زیا دہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض اوقات وہ شخص بھی اس کی آواز سن لیتا ہے جس کی صورت اس پر منکشف ہوئی ہے۔بعض اوقات صاحب کشف اپنے عالم کشف میں جو بیداری سے نہایت مشابہ ہے ارواح گزشتہ سے ملاقات کرتا ہے اور عام طور پر ملاقات بر یک نیک بخت روح یا بد بخت روح کے کشف قبور کے طور پر ہوسکتی ہے چنانچہ خوداس میں مؤلف رسالہ ہذا صاحب تجریہ ہے اور یہ امر ہندوؤں کے مسئلہ تناسخ کی بیخ کنی کرنے والا ہے اور سب سے تعجب کا یہ مقام ہے کہ بعض اوقات صاحب کشف اپنی توجہ اور قوت تاثیر سے ایک دوسرے شخص پر با وجودصد با کوسوں کے فاصلہ کے باذنہ تعالیٰ عالم بیداری میں ظاہر ہو جاتا ہے حالانکہ اس کا وجود عنصری اپنے مقام سے جنبش نہیں کرنا اور عقل کے زور سے ایک چیز کا دو جگہ ہونا محال ہے سو وہ محال اس عالم ثالث میں ممکن الوقوع ہو جاتا ہے اسی طرح