آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 412 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 412

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 412 باب و هم ہے لا حول ولا قوة پتھر پڑیں ایسی سمجھ پر کاش ماسٹر صاحب نے کچھ چھوڑی سی عربی پڑھی ہوتی یا کچھ تھوڑا سا قاعدہ نحو صرف کا ہی دیکھا ہوتا اے صاحب ذرا آنکھ کھول کر دیکھو کہ روح کی کیفیت پوچھنے والے کون لوگ تھے۔وہ تو آپ کے ہی بھائی بند یعنے منکرین دین اسلام تھے انہیں کو تو یہ جواب دیا گیا (1) عالم ظاہر جو آنکھوں اور کانوں اور دیگر حواس ظاہری کے ذریعہ اور آلات خارجی کے توسل سے محسوس ہو سکتا ہے۔(۲) عالم باطن جو عقل اور قیاس کے ذریعہ سے سمجھ میں آسکتا ہے۔(۳) عالم باطن در باطن جوابیا نازک اور لا یدرک و فوق الخیالات عالم ہے جو تھوڑے ہیں جو اس سے خبر رکھتے ہیں وہ عالم غیب محض ہے جس تک پہنچنے کے لئے عقلوں کو طاقت نہیں دی گئی مگر ظن محض۔اور اس عالم پر کشف اور وجی اور الہام کے ذریعہ سے اطلاع ملتی ہے نہ اور کسی ذریعہ سے اور جیسی عادت اللہ بہ یہی طور پر ثابت اور تحقیق ہے کہ اس نے ان دو پہلے عالموں کے دریافت کرنے کے لئے جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے انسان کو طرح طرح کے حواس قو تیں عنایت کی ہیں۔اسی طرح اس تیسرے عالم کے دریافت کرنے کے لئے بھی اس فیاض مطلق نے انسان کے لئے ایک ذریعہ رکھا ہے اور وہ ذریعہ وحی اور الہام اور کشف ہے جو کسی زمانہ میں بنگی بندا ور موقوف نہیں رہ سکتا بلکہ اس کے شرائط بجالانے والے ہمیشہ اس کو پاتے رہے ہیں اور ہمیشہ پاتے رہیں گے۔چونکہ انسان ترقیات غیر محدودہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور خدائے تعالیٰ بھی عیب بحل و امساک سے بنگی پاک ہے۔پس اس قوی دلیل سے ایسا خیال بڑا نا پاک خیال ہے جو یہ سمجھا جائے جو مندائے تعالیٰ نے انسان کے دل میں تینوں عالموں کے اسرار معلوم کرنے کا شوق ڈال کر پھر تیسرے عالم کے وسائل وصول سے بنگی اس کو محروم رکھا ہے۔پس یہ وہ دلیل ہے جس سے دانشمند لوگ دائمی طور پر الہام اور کشف کی ضرورت کو یقین کر لیتے ہیں اور آریوں کی طرح چار رشیوں پر الہام کو ختم نہیں کرتے جن کی مانند کوئی پانچواں اس کمال تک پہنچنا ان کی نظر عجیب میں ممکن ہی نہیں بلکہ عقلمند لوگ خدائے تعالیٰ کے فیاض مطلق ہونے پر ایمان لا کر الہامی دروازوں کو ہمیشہ کھلا سمجھتے ہیں اور کسی ولایت اور ملک سے اس کو مخصوص نہیں رکھتے ہاں اس صراط مستقیم سے مخصوص رکھتے ہیں جس پر ٹھیک ٹھیک چلنے سے یہ برکات حاصل ہوتے ہیں۔کیونکہ ہر ایک چیز کے حصول کے لئے یہ لازم پڑا ہوا ہے کہ انہیں قواعد اور طریقوں پر عمل کیا جائے جن کی پابندی سے وہ چیز مل سکتی ہے۔غرض عقلمند لوگ عالم کشف کے عجائبات سے انکار نہیں کرتے بلکہ انہیں ماننا پڑتا ہے کہ جس