آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 411 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 411

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 411 باب دہم ربانی کا ایک بھید دقیق ہے۔جس کو تم اسے کافر وسمجھ نہیں سکتے (دیکھئے حاشیہ) مگر کچھ تھوڑا سا جس کی وجہ سے تم مکلف بایمان ہو۔تمہاری عقلیں بھی دریافت کر سکتی ہیں۔اس کھلے کھلے مطلب کے سمجھنے میں ماسٹر صاحب نے کتنی بڑی غلطی کھائی ہے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ گویا یہ خطاب لاعلمی کیفیت روح کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف حاشیہ یہ ایک سر ربوبیت ہے جو کلمات اللہ سے مخلوقات الہی پیدا ہو جاتی ہے اس کو اپنی اپنی سمجھ کے موافق ہر ایک شخص ذہن نشین کر سکتا ہے چاہے اس طرح سمجھ لے کہ مخلوقات کلمات الہی کے اظلال و آثار ہیں یا ایسا سمجھ سکتا ہے کہ خود کلمات الہی ہی ہیں جو بقدرت الہی مخلوقیت کے رنگ میں آ جاتے ہیں کلام الہی کی عبارت ان دونوں معنے کے سمجھنے کے لئے وسیع ہے اور بعض مواضع قرآن کی ظاہر عبارت میں مخلوقات کا نام کلمات اللہ رکھا گیا ہے جو تجلیات ربوبیت ہے بقدرت الہی لوازم وخواص جدید ہ حاصل کر کے حدوث کے کامل رنگ سے رنگین ہو گئے ہیں اور در حقیقت یہ ایک سران اسرا رخالقیت میں سے ہے جو عقل کے چرخ پر چڑھا کر اچھی طرح سمجھ میں نہیں آ سکتے اورعوام کے لئے سید ھاراہ سمجھنے کا مہکی ہے کہ خدائے تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کرنا چاہا وہ ہو گیا اور سب کچھ اسی کا پیدا کردہ اور اسی کی مخلوق اور اس کے دست قدرت سے نکلا ہوا ہے لیکن عارفوں پر کشفی طور سے بعد مجاہدات یہ کیفیت حدوث کھل جاتی ہے اور نظر کشفی میں کچھ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام ارواح واجسام کلمات اللہ ہی ہیں۔جو حکمت کا ملہ الہی پیرا یہ حدوث و مخلوقیت سے متلبس ہو گئے ہیں مگر اصل محکم جس پر قدم مارنا اور قائم رہنا ضروری ہے یہ ہے کہ ان کشفیات و معقولات سے قدر مشترک لیا جائے یعنے یہ کہ خدائے تعالیٰ ہر یک چیز کا خالق اور محدث ہے اور کوئی چیز کیا ارواح اور کیا اجسام بغیر اس کے ظہور پذیر نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے۔کیونکہ کلام الہی کی عبارت اس جگہ در حقیقت ذوالوجوہ ہے۔اور جس قدر قطع اور یقین کے طور پر قرآن شریف ہدایت کرتا ہے وہ یہی ہے کہ ہر یک چیز خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیر و وجود پذیر ہوتی ہے اور کوئی چیز بغیر اس کے پیدا نہیں ہوئی اور نہ خود بخو د ہے سواس قد راعتقاد ابتدائی حالت کے لئے کافی ہے پھر آگے معرفت کے میدانوں میں سیر کرنا جس کو نصیب ہوگا اس پر بعد مجاہدات خود وہ کیفیت کھل جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فينا لنهدينهم سبلنا (الكبوت (٧٠) یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہد ہ کریں گے ہم ان کو وہ اپنی خاص راہیں آپ دکھلاویں گے جو مجرد عقل اور قیاس سے سمجھ میں نہیں آ سکتیں اور در حقیقت خدائے تعالیٰ نے اپنے عجیب عالم کو تین حصہ پر منقسم کر رکھا ہے۔