آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 410 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 410

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 410 باب و ہم مخاطب کفار ہیں کیونکہ ان آیات میں جمع کے صیغہ سے کسی جگہ آنحضرت مہ کو خطاب نہیں کیا گیا بلکہ جابجا واحد کے صیغہ سے خطاب کیا گیا ہے اور جمع کے صیغہ سے کفار کی جماعت کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایسا سوال کرتے ہیں سو اگر کوئی نرا اندھا نہ ہو تو سمجھ سکتا ہے کہ ان دونوں آیتوں میں دو جمع کے صیغے وارد ہیں۔اول ينقلون یعنی سوال کرتے ہیں۔دوم ما اوتیت یعنے تم نہیں دیئے گئے اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ ینسلون کے صیغہ جمع سے مراد کافر ہیں جنہوں نے روح کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا تھا۔ایسا ہی ظاہر ہے کہ ما اوتیت کے صیغہ جمع سے بھی مراد کافر ہی ہیں مگر آنحضرت ﷺ کو تو کسی جگہ جمع کے صیغہ سے خطاب نہیں کیا گیا بلکہ اول مجر دکاف سے جو واحد پر دلالت کرتا ہے خطاب کیا گیا بنے یہ کہا گیا کہ تجھ سے کفار پوچھتے ہیں یہ نہیں کہا گیا کہ تم سے کفار پوچھتے ہیں۔پھر بعد اس کے ایسا ہی لفظ واحد سے فرمایا کہ ان کو کہہ دے یہ نہیں فرمایا کہ ان کو کہ دو بر خلاف بیان حال کفار کے کہ ان کو دونوں موقعوں پر جمع کے صیغے سے بیان کیا ہے سو آیت کے سیدھے سیدھے معنے جو سیاق سباق کلام سے سمجھے جاتے ہیں اور صاف صاف عبارت سے نکلتے ہیں یہی ہیں کہ اے محمد کفار تجھ سے روح کی کیفیت پوچھتے ہیں کہ روح کیا چیز ہے اور کس چیز سے پیدا ہوئی ہے سو ان کو کہہ دے کہ روح امر ربی ہے یعنے عالم امر میں سے ہے اور تم اے کا فرو کیا جانو کہ روح کیا چیز ہے کیونکہ علم روح حاصل کرنے کے لئے ایماندار اور عارف باللہ ہونا ضروری ہے مگر ان باتوں میں سے تم میں کوئی بھی بات نہیں۔اب ہر ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہنا وانی اور شتاب کاری کی آمیزش سے کیا کیا ندامتیں اٹھانی پڑتی ہیں۔غور کرنا چاہئے کہ ان آیات شریفہ متذکرہ بالا کا کیسا مطلب صاف صاف تھا کہ کفار کی ایک جماعت نے آنحضرت ﷺ سے روح کے بارے میں سوال کیا کہ روح کیا چیز ہے تب ایسی جماعت کو جیسا کہ صورت موجودہ تھی بصیغہ جمع مخاطب کر کے جواب دیا گیا کہ روح عالم امر میں سے ہے یعنی کلمتہ اللہ باطل کلمہ ہے جو حکمت و قدرت الہی روح کی شکل پر وجود پذیر ہو گیا ہے اور اس کو خدائی سے کچھ حصہ نہیں بلکہ وہ در حقیقت حادث اور بندہ خدا ہے اور یہ قدرت