آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 408
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 408 باب و هم میں اُس کو دیں۔وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرارا فاضہ اُس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے۔وہ انسان نہیں ہے بلکہ وہ نیت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی نجی اُس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اُس کو عطا کیا گیا ہے۔جو اُس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم از لی ہے۔ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ہم کا فرنعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اسکے ٹور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اُس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اُسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اُس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔وہ لوگ جو اس غلط خیال پر جمے ہوئے ہیں کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لاوے یا مرتد ہو جائے اور تو حید پر قائم ہو اور خدا کو واحد لاشریک جانتا ہو وہ بھی نجات پا جائے گا اور ایمان نہ لانے یا مرتد ہونے سے اس کا کچھ بھی حرج نہ ہوگا جیسا کہ عبد الحکیم خان کا مذہب ہے ایسے لوگ در حقیقت تو حید کی حقیقت سے ہی بے خبر ہیں" هیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۱۲ تا ۱۱۹) ☆ آپ کو علم روح نہ دیئے جانے کا اعتراض آریہ سماج ہوشیار پور کے لیڈر لالہ مرلیدھر ڈرائنگ ماسٹر نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ مباحثہ کے دوران آنحضور ﷺ کے بارہ میں یہ اعتراض پیش کیا : " مرزا صاحب اور سب اہل اسلام کا یہی اعتقاد ہے اور قرآن میں آیا ہے کہ جب آنحضرت (محمد صاحب) سے لوگوں نے پوچھا کہ روح کیا چیز ہے تو آپ کچھ نہ بتلا سکے اور اس وقت آیت نازل ہوئی کہ اے محمد مہد دے کہ روح ایک امر ربی ہے سو مسلمانوں نے تو روح کو کیا سمجھا ہو گا خدا نے انکے ہادی پر بھی روح کی کیفیت ظاہر نہیں کی اور خدا کا بھی کیا جواب عمدہ ہے کہ روح امر ربی ہے کیا اور چیزیں امر ربی نہیں۔اس اعتراض کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے تحریر فرمایا کہ: