آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 407
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 407 باب دہم ہوتی ہیں) آسمان پر ہو جاتا ہے۔تب خدا تعالیٰ اپنے چہرہ کی چمک دکھلاتا ہے اور زبر دست نشانوں کے ساتھ اپنی ہستی اور اپنی تو حید لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔پس اس میں شک نہیں کہ تو حید اور خدا دانی کی متاع رسول کے دامن سے ہی دنیا کو ملتی ہے بغیر اس کے ہرگز نہیں مل سکتی اور اس امر میں سب سے اعلیٰ نمونہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا کہ ایک قوم جو نجاست پر بیٹھی ہوئی تھی اُن کو نجاست سے اُٹھا کر گلزار میں پہنچا دیا۔اور وہ جو رو حانی بھوک اور پیاس سے مرنے لگے تھے اُن کے آگے روحانی اعلیٰ درجہ کی غذا ئیں اور شیریں شربت رکھ دئے۔اُن کو وحشیانہ حالت سے انسان بنایا۔پھر معمولی انسان سے مہذب انسان بنایا پھر مہذب انسان سے کامل انسان بنایا اور اس قدر اُن کے لئے نشان ظاہر کئے کہ اُنکو خدا دکھلا دیا اور اُن میں ایسی تبدیلی پیدا کر دی کہ انہوں نے فرشتوں سے ہاتھ جا ملائے۔سیتا شیر کسی اور نبی سے اپنی امت کی نسبت ظہور میں نہ آئی کیونکہ اُن کے محبت یاب نا قص رہے پس میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ( ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ تو حید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اس لئے خدا نے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی حاشیہ یہ عجیب بات ہے کہ دنیا ختم ہونے کو ہے مگر اس کامل نبی کے فیضان کی شعاعیں اب تک ختم نہیں ہوئیں اگر خدا کا کلام قرآن شریف مانع نہ ہونا تو فقط یہی نبی تھا جس کی نسبت ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ اب تک مع جسم عنصری زنده آسمان پر موجود ہے کیونکہ ہم اُس کی زندگی کے صریح آثار پاتے ہیں۔اس کا دین زندہ ہے اس کی پیروی کرنے والا زندہ ہو جاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے زندہ خدا مل جاتا ہے۔ہم نے دیکھ لیا ہے کہ خدا اس سے اور اس کے دین سے اور اس کے محب سے محبت کرتا ہے۔اور یادر ہے کہ در حقیقت وہ زندہ ہے اور آسمان پر سب سے اس کا مقام بہتر ہے لیکن یہ جسم عنصری جو فانی ہے یہ نہیں ہے بلکہ ایک اور نورانی جسم کے ساتھ جو لازوال ہے اپنے خدائے مقدر کے پاس آسمان پر ہے۔منہ