آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 406 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 406

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 406 باب دہم بڑے مجاہدات میں اپنے تئیں ڈالتا ہے جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے: لعَلَّكَ بَاخِع نفسك ألا يكونوا مُؤْمِنينَ (الشعراء:٢) ( ترجمه یعنی کیا تو اس غم میں اپنے تئیں ہلاک کر دے گا کہ یہ کافر لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے۔منہ ) تب اگر چہ خدا مخلوق سے بے نیاز اور مستغنی ہے مگر اُس کے دائی غم اور حزن اور کرب و قلق اور مدلل اور نیستی اور نہایت درجہ کے صدق اور صفا پر نظر کر کے مخلوق کے مستعد دلوں پر اپنے نشانوں کے ساتھ اپنا چہرہ ظاہر کر دیتا ہے اور اُس کی پُر جوش دعاؤں کی تحریک سے جو آسمان پر ایک معبناک شور ڈالتی ہیں خدا تعالیٰ کے نشان زمین پر بارش کی طرح ہم بستے ہیں۔اور عظیم الشان خوارق دنیا کے لوگوں کو دکھلائے جاتے ہیں جن سے دنیا دیکھ لیتی ہے کہ خدا ہے اور خدا کا چہرہ نظر آجاتا ہے لیکن اگر وہ پاک نبی اِس قدر دعا اور تضرع اور ابتہال سے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ نہ کرتا اور خدا کے چہرہ کی چمک دنیا پر ظاہر کرنے کیلئے اپنی قربانی نہ دیتا اور ہر ایک قدم میں صد ہا موتیں قبول نہ کرنا تو خُدا کا چہرہ دنیا پر ہرگز ظاہر نہ ہوتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ بوجہ استغناء ذاتی کے بے نیاز ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے : إنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ العَلَمِينَ (آل عمران: ۹۸) اور ولذِينَ جَاهَدُ وَات لَتَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا (العنکبوت: ۷۰ ) خدا تو تمام دنیا سے بے نیاز ہے اور جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور ہماری طلب میں کوشش کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں انہیں کیلئے ہمارا یہ قانون قدرت ہے کہ ہم اُنکو اپنی راہ دکھلا دیا کرتے ہیں۔سو خدا کی راہ میں سب سے اول قربانی دینے والے نبی ہیں۔ہر ایک اپنے لئے کوشش کرتا ہے مگر انبیاء علیہم السلام دوسروں کیلئے کوشش کرتے ہیں۔لوگ سوتے ہیں اور دوان کیلئے جاگتے ہیں۔اور لوگ بنتے ہیں اور وہ اُن کیلئے روتے ہیں اور دنیا کی رہائی کیلئے ہر ایک مصیبت کو بخوشی اپنے پروارد کر لیتے ہیں۔یہ سب اس لئے کرتے ہیں کہ نا خدا تعالیٰ کچھ ایسی تجلی فرمادے کہ لوگوں پر ثابت ہو جاوے کہ خدا موجود ہے اور مستعد دلوں پر اُس کی ہستی اور اُس کی توحید منکشف ہو جاوے تا کہ وہ نجات پائیں۔پس و و جانی دشمنوں کی ہمدردی میں مر رہتے ہیں اور جب انتہا درجہ پر اُن کا درد پہنچتا ہے اور ان کی درد ماک آہوں سے ( جو خلوق کی رہائی کیلئے