آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 405 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 405

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 400 باب و هم خدا جس کا وجود دقیق در دقیق اور مخفی در مخفی اور غیب الغیب ہے ظاہر ہوتا ہے اور ہمیشہ سے وہ کثیر مخفی جس کا نام خدا ہے نبیوں کے ذریعہ سے ہی شناخت کیا گیا ہے۔ورنہ وہ تو حید جو خدا کے نزدیک تو حید کہلاتی ہے جس پر عملی رنگ کامل طور پر چڑھا ہوا ہوتا ہے اُس کا حاصل ہونا بغیر ذریعہ نبی کے جیسا کہ خلاف عقل ہے ویسا ہی خلاف تجارب سالکین ہے۔بعض نادانوں کو جو یہ وہم گذرتا ہے کہ کو یا نجات کے لئے صرف تو حید کافی ہے نبی پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں۔گویا وہ رُوح کو جسم سے علیحدہ کرنا چاہتے ہیں یہ وہم سراسر دلی کوری پر مبنی ہے۔صاف ظاہر ہے کہ جبکہ تو حید حقیقی کا وجود ہی نبی کے ذریعہ سے ہوتا ہے اور بغیر اس کے ممتنع اور محال ہے تو وہ بغیر نبی پر ایمان لانے کے میسر کیونکر آسکتی ہے۔اور اگر نبی کو جو جڑھ توحید کی ہے ایمان لانے میں علیحدہ کر دیا جائے تو توحید کیونکر قائم رہے گی۔توحید کا موجب اور توحید کا پیدا کرنے والا اور توحید کا باپ اور توحید کا سر چشمہ اور توحید کا مظہر اتم صرف نبی ہی ہوتا ہے اُس کے ذریعہ سے خدا کا مخفی چہرہ نظر آتا ہے اور پتہ لگتا ہے کہ خدا ہے۔بات یہ ہے کہ ایک طرف تو حضرت احدیت جل شانہ کی ذات نہات درجہ استغنا اور بے نیازی میں پڑی ہے اُس کو کسی کی ہدایت اور ضلالت کی پروا نہیں۔اور دوسری طرف وہ بالطبع یہ بھی تقاضا فرماتا ہے کہ وہ شناخت کیا جائے اور اُسکی رحمت ازلی سے لوگ فائدہ اُٹھاویں۔پس وہ ایسے دل پر جو اہل زمین کے تمام دلوں میں سے محبت اور قرب او سبحانہ کا حاصل کرنے کیلئے کمال درجہ پر فطرتی طاقت اپنے اندر رکھتا ہے۔اور نیز کمال درجہ کی ہمد ردی بنی نوع کی اس کی فطرت میں ہے تجلی فرماتا ہے اور اس پر اپنی ہستی اور صفات ازلیہ ابدیہ کے انوار ظاہر کرتا ہے اور اس طرح وہ خاص اور اعلیٰ فطرت کا آدمی جس کو دوسرے لفظوں میں نبی کہتے ہیں اس کی طرف کھینچا جاتا ہے۔پھر وہ نبی بوجہ اسکے کہ ہر ردی بنی نوع کا اس کے دل میں کمال درجہ پر جوش ہوتا ہے اپنی روحانی تو جہات اور تضرع اور انکسار سے یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا جو اس پر ظاہر ہوا ہے۔دوسرے لوگ بھی اُسکو شناخت کریں اور نجات پاویں اور وہ دلی خواہش سے اپنے وجود کی قربانی خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرتا ہے اور اس تمنا سے کہ لوگ زندہ ہو جائیں کئی موتیں اپنے لئے قبول کر لیتا ہے اور