آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 402 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 402

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 402 باب و ہم اور اگر یہ سچ تھا کہ صرف خدا کو واحد لاشریک کہنا ہی کافی ہے تو گویا یہ بھی ایک شرک کی قسم ہے کہ لا إلهَ إِلَّا الله کے ساتھ مُحَمَّد رسول اللہ لازمی طور پر ملایا گیا اور در حقیقت اس خیال کے لوگ محمد رسول اللہ کہنا شرک ہی سمجھتے ہیں اور خدا تعالی کی کامل تو حید اسی میں تصور کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ کسی کا نام نہ ملایا جائے اور ان کے نزدیک دین اسلام سے خارج ہونا نجات سے مانع نہیں۔اور اگر مثلاً ایک ہی دن میں سب کے سب مسلمان آنحضرت کی نبوت سے انکار کر کے گمراہ فلسفیوں کی طرح مجز و تو حید کو کافی سمجھیں اور اپنے تئیں قرآن اور رسول ﷺ کی پیروی سے مستغنی خیال کر لیں اور مکذب ہو جائیں تو اُن کے نز دیک یہ سب لوگ با وجود مرتد ہونے کے نجات پا جائیں گے اور بلاشبہ بہشت میں داخل ہوں گے۔مگر یہ بات کسی ادنی عقل والے پر بھی پوشیدہ نہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ سے ہمارے اس زمانہ تک تمام اسلامی فرقوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلام کی حقیقت یہی ہے کہ جیسا کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کو واحد لاشریک سمجھتا ہے اور اس کی ہستی اور وجود اور واحدانیت پر ایمان لاتا ہے ایسا ہی اُس کے لئے ضروری ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت پر ایمان لاوے۔اور جو کچھ قرآن شریف میں مذکور و مسطور ہے سب پر ایمان رکھے۔یہی وہ امر ہے جو ابتدا سے مسلمانوں کے ذہن نشین کر دیا گیا ہے اور اسی پر محکم عقیدہ رکھنے کی وجہ سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنی جانیں دیں۔اور کئی صادق مسلمان جو کفار کے ہاتھ میں عہد نبوی میں گرفتار ہو گئے تھے اُنکو بار بار یہ فہمائش کی گئی تھی کہ آنحضرت ﷺ سے منکر ہو جاؤ تو تم ہمارے ہاتھ سے رہائی پاؤ گے۔لیکن انہوں نے انکار نہ کیا اور اسی راہ میں جان دی۔یہ باتیں اسلام کے واقعات میں ایسی مشہور ہیں کہ جو شخص ایک ادنی واقفیت بھی اسلامی تاریخ سے رکھتا ہوگا اس کو ہمارے اس بیان سے انکار نہیں ہوگا۔اور پھر یہ بھی یادر ہے کہ اگر چہ اسلامی لڑائیاں مدافعت کے طور پر تھیں یعنی ابتدا انکی کفار کی طرف سے تھی اور کفار عرب اپنے حملوں سے باز نہیں آتے تھے اس خوف سے کہ مباداد مین اسلام جزیرہ عرب میں پھیل جائے اور اسی بنا پر آنحضرت مے کو ان کے ساتھ لڑنے کا حکم ہوا