آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 401 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 401

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 401 باب دہم اس عقیدہ کارڈ کہ نجات کے لئے توحید کافی ہے آپ پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں بعض نادان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نجات کے لئے تو حید ہی کافی ہے آپ پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں ، اس کے رد میں حضرت مسیح موعود حقیقۃ الوحی میں تحریر فرماتے ہیں: پہلے وہ امر لکھنے کے لائق ہے جس کی وجہ سے عبد الحلیم خان ہماری جماعت سے علیحدہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کا یہ عقیدہ ہے کہ نجات اخروی حاصل کرنے کیلئے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں بلکہ ہر ایک جو خدا کو واحد لاشریک جانتا ہے ( کو آنحضرت ﷺ کا ہرا مکذب ہے ) وہ نجات پائے گا۔اس سے ظاہر ہے کہ اس کے نزدیک ایک شخص اسلام سے مرند ہو کر بھی نجات پا سکتا ہے اور ارتداد کی سزا دینا اُس کو ظلم ہے۔مثلاً حال میں ہی جو ایک شخص عبد الغفور نام مرتد ہو کر آریہ سماج میں داخل ہوا اور دھرم پال نام رکھایا اور آنحضرت ﷺ کی تو ہین اور تکذیب میں دن رات کمر بستہ ہے وہ بھی عبد الحلیم خان کے نز دیک سیدھا بہشت میں جائے گا۔کیونکہ آریہ لوگ بت پرستی سے دستکش ہیں۔مگر ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ایسے عقیدہ کی رو سے انبیاء علیہم السلام کا مبعوث ہونا محض بیہودہ اور لغو کام ٹھہرے گا۔کیونکہ جب ایک شخص انبیاء علیہم السلام کا مکذب اور دشمن ہو کر بھی خدا کو ایک جاننے سے نجات پا سکتا ہے تو پھر اس صورت میں کو یا انبیاء صرف عبث طور پر دنیا میں بھیجے گئے۔جم ور نہ اُن کے بغیر بھی کام چل سکتا تھا۔اور اُن کے وجود کی کوئی بڑی بھاری ضرورت نہ تھی۔حاشیہ اگر یہ بات سچ ہے کہ وہ لوگ جو انبیاء علیہم السلام کی تکذیب کرنے والے اور ان کے دشمن ہیں محض اپنی خیالی تو حید سے نجات پا جائیں گے تو بجائے اس کے کہ ان کفار کو قیامت میں کوئی عذاب ہو انبیا ء خود ایک قسم کے عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے۔جبکہ وہ اپنے سخت دشمنوں اور مکذبوں اور اہانت کرنیوالوں کو بہشت کے تختوں پر بیٹھے دیکھیں گے اور اپنی طرح ہر ایک قسم کی نازو نعت میں انکو پا ئیں گے اور ممکن ہے کہ اسوقت بھی وہ لوگ ٹھٹھا کر کے نبیوں کو کہیں کہ تمہاری تکذیب اور تو ہین نے ہمارا کیا بگاڑا۔تب بہشت میں رہنا نبیوں پر تلخ ہو جائے گا۔منہ