آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 403
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 403 باب و هم تھا۔نا مظلوموں کو ان فرعونوں کے ہاتھ سے رہائی بخشیں مگر اس میں بھی کچھ شبہ نہیں کہ پھر بھی اگر کٹھا رکو یہ پیغام دیا جاتا کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ماننا کچھ ضروری نہیں اور آنجناب پر ایمان لانا کچھ شر د نجات نہیں صرف اپنے طور پر خدا کو واحد لاشریک سمجھو کو آنحضرت ﷺ کے مکذب شرط اور مخالف اور دشمن رہو اور اس بات کی ضرورت نہیں کہ انکو اپنا سر دارا اور پیشوا سمجھ لو تو اس سے اس قدر خونریزی کی نوبت نہ آتی بالخصوص یہودی جو خدا کو واحد لاشریک سمجھتے تھے کیا وجہ کہ اُن سے لڑائیاں کی گئیں یہاں تک کہ بعض موقعوں میں کئی ہزار یہودی گرفتار کر کے ایک ہی دن میں قتل کئے گئے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر صرف تو حید نجات کے لئے کافی تھی تو یہودیوں سے خواہ مخواہ لڑائیاں کرنا اور اُن میں سے ہزاروں کو قتل کرنا یہ فعل سراسر نا جائز اور حرام تھا۔پھر خود انحضرت ﷺ اس فعل کے کیوں مرتکب ہوئے۔کیا آنحضرت ﷺ کو قرآن کا علم نہ تھا؟ اور اگر خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں کو غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ تمام نبی یہی سکھلاتے آئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو واحد لاشریک مانو اور ساتھ اس کے ہماری رسالت پر بھی ایمان لاؤ۔اسی وجہ سے اسلامی تعلیم کا ان دو فقروں میں خلاصہ تمام امت کو سکھلایا گیا کہ لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله۔یہ بھی یادر ہے کہ خدا کے وجود کا پتہ دینے والے اور اُس کے واحد لاشریک ہونے کا علم لوگوں کو سکھلانے والے صرف انبیاء علیہم السلام ہیں۔اور اگر یہ مقدس لوگ دنیا میں نہ آتے تو صراط مستقیم کا یقینی طور پر پانا ایک ممتنع اور محال امر تھا اگر چہ زمین و آسمان پر غور کر کے اور اُن کی ترتیب ابلغ اور محکم پر نظر ڈال کر ایک صحیح المفطرت اور سلیم العقل انسان دریافت کر سکتا ہے کہ اس کا رخانہ پُر حکمت کا بنانے والا کوئی ضرور ہونا چاہیئے لیکن اس فقرہ میں کہ ضرور ہونا چاہئے۔اور اس فقرہ میں کہ واقعی وہ موجود ہے بہت فرق ہے۔واقعی وجود پر اطلاع دینے والے صرف انبیاء علیہم السلام ہیں جنہوں نے ہزار ہانشانوں اور معجزات سے دنیا پر ثابت کر دکھایا کہ وہ ذات جو مخفی در مخفی اور تمام طاقتوں کی جامع ہے در حقیقت موجود ہے۔اور بھی تو یہ ہے کہ اس قدر عقل بھی کہ نظام عالم کو دیکھ کر صانع حقیقی کی ضرورت محسوس ہو۔یہ مرتبہ عقل بھی نبوت کی