آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 397
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 397 باب نہم شخص ان فقروں کو درمیان میں شامل سمجھ سکتا ہے۔پس یہ آیات ہی بتا رہی ہیں کہ ان میں وہ فقرے داخل نہیں ہو سکتے۔آخر کا ر عربی تو جانتے تھے۔اس کے علاوہ مندرجہ ذیل آیتیں بھی اس حصہ کو ر ڈ کر رہی ہیں۔فرمایا: وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيضِينَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ (الشعراء: ۲۱۱ تا ۲۱۲) یعنی اس میں شیطانی کلام کا اس قدررت ہے کہ اسے شیطان اتا رہی کس طرح سکتا ہے۔پھر اگر شیطان یا اس کے ساتھی اس میں کچھ ملانا چاہیں تو ملا ہی نہیں سکتے۔کہیں کوئی عبارت کھپ ہی نہیں سکتی۔جو کچھ ملائیں گے بے جوڑ ہوگا۔جیسا کہ یہاں ہوا ہے۔پھر آگے چل کر فرماتا ہے: هلْ أَتَيْتُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيفِينُ تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَاتِ آشِيهِ يَلْقُونَ السَّمْعَ واكثرهم كذبون (الشعراء:۲۲۲۲ ۲۲۴) کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس طرح اترتے ہیں۔شیطان کا تعلق ہر آفاق اور اشیم کے ساتھ ہوتا ہے۔یعنی جو بڑا جھوٹ بولنے والا اور گناہگار ہو اس سے شیطان کا تعلق ہوتا اور ہے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تو تم خود کہتے ہو کہ اس سے بڑھ کر سچا اور کوئی نہیں۔اس کے امین ہونے کے بھی تم قائل ہو پھر اس پر شیطان کا تصرف کس طرح ہو سکتا ہے۔پھر فرماتا ہے: إنَّ الشَّيطِينَ لَيُوحُونَ إلى أوليهِم لِيُجَادِلُوكُمْ (الانعام :١٣٢) : - که شیطان تو اپنی وحی شیطانوں کی طرف کرتا ہے تا کہ وہ تم سے جھگڑیں۔مومنوں کی طرف نہیں کرتا۔اب دیکھو وہ روایتیں جو بیان کی جاتی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسا خطرناک الزام لگاتی ہیں۔شیطان تو اپنے دوست کو ہی کہے گا کہ یہ ہتھیار لے جا اورلڑ کسی مسلمان کو وہ اپنے خلاف کس طرح بتائے گا۔اسی طرح سور پنھل رکوع ۱۳ میں آتا ہے: