آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 395 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 395

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 395 باب نهم بیان کیا گیا ہے کہ ابن حجر جیسے آدمی کہتے ہیں کہ اس کی نا ویل کی ضرورت ہے۔کو تا ریخی طور پر یہ روایت بالکل غلط ہے اور میں ثابت کر سکتا ہوں کہ یہ محض جھوٹ ہے۔مگر اس وقت میں کسی تاویل میں نہیں پڑتا میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن اس کے متعلق کیا کہتا ہے اور کیا واقعہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہوا؟ اس موقع پر میں ایک مسلمان بزرگ کا قول بھی بیان کرتا ہوں جو مجھے بے انتہا پسند ہے۔میں تو جب بھی یہ قول پڑھتا ہوں ان کے لئے دعا کرتا ہوں۔یہ بزرگ قاضی عیاض ہیں۔وہ فرماتے ہیں شیطان نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تو کوئی تصرف نہیں کیا البتہ بعض محدثین کے قلم سے شیطان نے یہ روایت لکھوا دی ہے۔گویا اگر شیطان کا تسلط کسی پر کرانا ہی ہے تو کیوں نہ محدثین پر کرایا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو درمیان میں کیوں لایا جائے۔بعض نادان کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ نجم پڑھتے ہوئے یہ آیتیں بھی پڑھ دیں۔اس پر جبریل نازل ہوا اور اس نے کہا آپ نے یہ کیا کیا۔میں تو یہ آیتیں نہیں لایا تھا۔یہ تو شیطان نے جاری کی ہیں۔یہ معلوم کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت فکر ہوا۔خدا تعالیٰ نے اس فکر کو یہ کہ کر دور کر دیا کہ: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلا نَبِي إِلَّا إِذَا تَمَى القَى الخَيْظن في أمنيته فيمسح الله ما ينقى الأيمن ثُمَّ يُعْكِمُ الله فَيَنْسَخُ ايته وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (الحجر:۵۳) فرمایا تم سے پہلے بھی کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں بھیجا گیا کہ جب اس کے دل میں کوئی خواہش پیدا ہوئی ہو تو شیطان نے اس میں دخل نہ دے دیا ہو۔پھر اللہ تعالیٰ شیطان کی بات کو مٹا دیتا ہے اور جو اس کی اپنی طرف سے ہوتی ہے اسے قائم رکھتا ہے۔کہتے ہیں جب یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل کی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی ہو گئی تسلی کس طرح ہوئی اسی طرح جس طرح اس بڑھیا عورت کی ہو گئی تھی جس سے کسی نے پوچھا کہ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ تمہارا کبڑا پن