آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 394
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 394 باب نہم ہے اور کو کفار کا کوئی قول اس اعتراض کے متعلق نقل نہیں کیا گیا مگر اس اعتراض کے اشارے ضرور پائے جاتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے۔وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيْطين (الشعراء (۲۱) شیطان اس کلام کو لے کر نہیں اترے۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطنٍ رجيع الصور (۲) یہ شیطان رجیم کا قول نہیں ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کا یہ بھی اعتراض تھا کہ اس پر شیطان اترتا ہے۔افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس اعتراض کو اور پکا کر دیا ہے اور کفار کے ہاتھ میں ایک ہتھیار دے دیا ہے۔وہ اس طرح کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کفار مکہ کے سردار جمع ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کے پاس ادنی درجہ کے لوگ آتے ہیں اور بڑے لوگ آپ کی باتیں نہیں سنتے۔اگر آپ دین میں کچھ نرمی کر دیں تو ہم لوگ آپ کے پاس آکر بیٹھا کریں۔اس طرح دوسرے لوگ بھی آپ کے پاس آنے لگیں گے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ اگر ایسا کر دیا جائے تو پھر بڑے بڑے لوگ مان لیں گے۔( مجھے کیا ہی لطف آیا اس شخص کے اس فقرہ سے جس کا نام نولڈ کے ہے۔وہ لکھتا ہے معلوم ہوتا ہے یہ روایت بنانے والے محمد (ﷺ) کو اپنے جیسا ہی بیوقوف سمجھتے تھے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ دین میں نرمی کرنے کا خیال آیا۔اتنے میں آپ نماز پڑھنے لگے اور سورۃ نجم پڑھنی شروع کی۔اس وقت شیطان نے آفريتُمُ اللتَ وَالْعُوى ومنوة الثالثة الأخرى (الجم : ۲۱۲۰) کے بعد یہ کلمات آپ کی زبان پر جاری کر دئے کہ وَ تِلكَ الغَرَانِيقُ الْعُلَى، وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لمرتجی کیا تم نے لات اور عزمی اور منات کی حقیقت نہیں دیکھی۔یہ بہت خوبصورت دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی بڑی امید ہے۔چونکہ سورۃ نجم کے آخر میں سجدہ آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو سب کفار نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کر دیا کیونکہ انہوں نے کجھ لیا کہ آپ نے دین میں نرمی کر دی ہے اور بتوں کو مان لیا ہے۔اس روایت کو اتنے طریقوں سے