آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 393
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 393 باب نهم سپرٹ آف اسلام" کے پہلے باب میں مندرج ہے۔سید امیر علی صاحب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات بیان کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: اس دوران میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے پیغمبر صاحب کے مسیح سوانح نویس اور مسلمان مؤرخ مختلف پیرایوں میں بیان کرتے ہیں۔“ اس کے آگے انہوں نے پہلے تو اسلامی مؤرخین کی روایت نقل کی ہے اور بعد میں مسیحی مؤرخوں کا وہ بیان نقل کیا ہے جس کی طرف پروفیسر رام دیو صاحب نے اشارہ کیا ہے اور جسے انہوں نے سید امیر علی صاحب کی طرف منسوب کیا ہے۔اپنی طرف سے سید صاحب نے کوئی رائے ظاہر نہیں کی۔چنانچہ سید صاحب لکھتے ہیں کہ دو مسیحی مؤرخین کے نزدیک اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم کے دل میں ایک قلیل عرصہ کے لئے یہ خواہش پیدا ہو گئی تھی کہ وہ قریش کے ساتھ جو جنگ ہو رہی تھی کسی سمجھوتہ کے ذریعہ خاتمہ کر دیں۔اور آگے انہوں نے مسیحی مورخین کے دونوں گروہوں کے خیالات نقل کئے ہیں۔ان کے بھی جو متعصب ہیں اور ان کے بھی جو غیر متعصب ہیں۔جیسے لین پول وغیرہ۔پس مسیحی مؤرخین کے خیالات کو سید امیر علی صاحب کی طرف منسوب کرنا ایک ظلم عظیم ہے۔اور مجھے افسوس ہے کہ ایک قابل آدمی کی زبان سے اس قسم کی غلطی کی اشاعت ہو۔اور ایک ایسے مضمون کے بیان کرتے وقت جس میں وہ ایک اہم اور وسیع الاثر مسئلہ کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہو۔“ ☆ انوارالعلوم جلد ۵ صفحه ۵ ۵۸ ۵۸۶) شیطانی تعلق اور شیطانی کلام ہونے کا اعتراض آپ پر ایک یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ نعوذ باللہ آپ کا شیطان سے تعلق ہے اور شیطان نے آپ پر کلام اتارا۔اس اعتراض کے رد میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: م عتراض یہ تھا کہ اس کے ساتھ شیطان کا تعلق ہے اور اس کی طرف سے اسے کلام حاصل ہوتا