آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 392
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 392 باب نهم آسمان کے فرشتے نہ بیٹا ، مگر صرف باپ جیسا نوح کے دنوں میں ہو ا ویسا ہی ابن آدم کے آنے کے وقت ہوگا۔کیونکہ جس طرح طوفان کے پہلے سے دنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے تھے اس دن تک کہ نوح کشتی میں داخل ہوا۔اور جب تک طوفان آکر ان سب کو بہانہ لے گیا ان کو خبر نہ ہوئی اسی طرح ابن آدم کا آنا ہو گا۔“ (لوقا باب ۲۴ آیت ۳۶ تا ۴۰ ) غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور بے عیب زندگی اور آپ کی تعلیم کا پاک اور مطہر ہونا اور پھر قرآن کریم میں آسمانی علوم اور غیب کی خبروں کا بکثرت اظہار اور شیاطین کا آسمانی علوم کے بیان کرنے کی طاقت ہی نہ رکھنا بتا رہا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ آپ کے ساتھ شیطان کا تعلق ہے اور اس نے آپ پر یہ کلام نازل کر دیا ہے سراسر غلط اعتراض ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شیطان سے نہیں خدا سے تعلق ( تفسیر کبیر جلد ۷ ص ۲۷۴ تا ۲۷۷) ہے اور اسی نے آپ پر یہ کلام نازل فرمایا ہے۔“ پروفیسر رام دیو نے اپنے ایک لیکچر میں سید امیر علی صاحب کی کتاب ”سپرٹ آف اسلام کے حوالہ سے یہ اعتراض کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کے تین بتوں کو مان لیا تھا۔اس اعتراض کے رد میں حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں: ایک حوالہ جو سپرٹ آف اسلام سے پروفیسر رام دیو صاحب نے دیا ہے یہ کہ سیدامیر علی صاحب نے لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار مکہ نے کہا کہ وہ ان کے تین بتوں کو مان لیں تو وہ بھی ان کے خدا کو مان لیں گے تو آپ نے کچھ دن کے لئے بتوں کو مان لیا۔مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سید امیر علی صاحب پر یہ اتہام ہے کہ ان پر اور ہزار الزام لگ سکتے ہوں مگر یہ الزام ان پر نہیں لگ سکتا۔انہوں نے ہرگز اپنی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے کہنے پر بتوں کو مان لیا تھا۔بلکہ اس مضمون پر انہوں نے اپنی طرف سے کچھ لکھا ہی نہیں۔یہ واقعہ جس کی طرف پر وفیسر رام دیو صاحب نے اشارہ کیا ہے