آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 391 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 391

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 391 باب نہم اور لوگوں نے تعجب کیا لیکن ان میں سے بعض نے کہا۔یہ تو بدروحوں کے سردار بعلو بول کی مدد سے بد روحوں کو نکالتا ہے۔بعض اور لوگ آزمائش کے لئے اس سے آسمانی نشان طلب کرنے لگے۔مگر اس نے ان کے خیالات کو جان کر ان سے کہا جس سلطنت میں پھوٹ پڑے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس گھر میں پھوٹ پڑے وہ برباد ہو جاتا ہے اور اگر شیطان بھی اپنا مخالف ہو جائے تو اس کی سلطنت کس طرح قائم رہے گی کیونکہ تم میری بابت کہتے ہو کہ یہ بد روحوں کو بلعز بول کی مدد سے نکالتا ہے۔“ (لوقا باب ۱۱ آیت ۱۴ تا ۱۸) اسی طرح متی میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح نے ان سے کہا۔اگر شیطان ہی نے شیطان کو نکالاتو وہ آپ اپنا مخالف ہو گیا۔پھر ان کی بادشاہی کس طرح قائم رہے گی۔" (متی باب ۱۲ تا ۲۶) قرآن کریم بھی یہی دلیل مخالفوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔اور انہیں توجہ دلاتا ہے کہ اگر تمہارا یہ اعتراض صحیح ہو کہ شیطان نے یہ کلام نازل کیا ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ شیطان نے اپنا بیڑا آپ غرق کر لیا۔کیونکہ اس کتاب کے لفظ لفظ میں شیطان کو دھتکارا گیا ہے اور اس کی ایک ایک تعلیم میں اس پر پھٹکا ر ڈالی گئی ہے۔اب یہ کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ شیطان نے خود اپنے خلاف انتخاب امواد فراہم کر دیا۔یہ تو عقل کے بالکل خلاف ہے۔اسی طرح وَمَا يَسْتَطِيعُونَ میں جو دلیل استعمال کی گئی ہے کہ اس قرآن میں تو غیب کی خبریں ہیں اور غیب کی خبریں بیان کرنا شیطان کے اقتدار سے باہر ہے۔اسے بھی انجیل میں استعمال کیا گیا ہے اور حضرت مسیح نے واضح کیا ہے کہ علم غیب صرف خدا تعالیٰ کو حاصل ہے اور شیاطین تو الگ رہے فرشتے بھی اس کے رازوں سے آگاہ نہیں چنانچہ ایک دفعہ حضرت مسیح نے جب اپنی آمد ثانی کی علامات بتا ئیں تو اس کے ساتھ ہی آپ نے اس امر کی بھی وضاحت فرما دی کہ کو میری یہ باتیں کبھی نہیں ملیں گی۔لیکن اس دن اور اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔نہ