آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 390
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 390 باب نهم (الف) اس شخص کا اپنا چال چلن ایسا اعلیٰ اور پاکیزہ ہے کہ ایسے آدمیوں کا شیطان سے کوئی تعلق ہو ہی نہیں سکتا۔(ب) پھر جو تعلیم اس پر نازل ہوئی ہے وہ ایسی مطہر اور پاک ہے کہ ناپاک شیطان اس تعلیم کو اتا رہی نہیں سکتا۔آخر یہ کس طرح ممکن ہے کہ شیطان کے خلاف تعلیم ہے تو یہ کلام اس کی طرف سے کیسے نازل ہو سکتا ہے۔( ج ) اس کتاب میں آسانی علوم ہیں اور اس میں شیطانی کلام کا اس قدررڈ ہے کہ اگر شیطان یا اس کے ساتھی اس میں کچھ ملانا بھی چاہیں تو نہیں ملا سکتے کیونکہ کہیں کوئی عبارت چھپ ہی نہیں سکتی اور پھر وہ آسمانی علوم کے بیان کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے کیونکہ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُوْنَ خدا تعالیٰ نے انہیں آسمان کی باتیں سننے سے محروم کیا ہوا ہے گویا آسمان پر جا کر باتیں سننا تو ا لگ رہا وہاں تک کسی کے جانے کی طاقت بھی قرآن کریم نے تسلیم نہیں کی مگر عجیب بات یہ ہے کہ بعض مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ شیطان آسمان پر جاتا ہے اور وہ ملاء اعلیٰ اور جبریل اور عرش کی باتوں کو سن کر زمین پر آجاتا ہے اور پھر وہ اپنے چیلے چانٹوں کو وہ خبریں بتاتا پھرتا ہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ یہ فرمانا ہے کہ شیطان آسمانی کلام سننے کی طاقت ہی نہیں رکھتا۔خدا تو خدا ہے۔اس دنیا کی معمولی معمولی بادشاہوں کے پاس بھٹکنے کی بھی لوگوں میں طاقت نہیں ہوتی اور وہ ان کے قریب جانے سے لرزتے اور گھبراتے ہیں۔پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ زمین و آسمان کے خدا کے راز شیطان ایک کر لے آئے۔اور وہ انہیں بگاڑ کر دنیا میں پھیلانا شروع کردے۔غرض قرآن کریم کفار کے اس الزام کی تردید کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ شیاطین نے اس کلام کو نا زل نہیں کیا اور یہ کام نہ ان کے مناسب حال تھا اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے تھے۔یعنی قرآن کریم میں تو وہ وہ نصیحتیں ہیں جو شیطانی تعلیموں کے بالکل خلاف ہیں۔پھر یہ کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ شیطان نے خود اپنے خلاف محمد رسول اللہ پر تعلیم نازل کر دی۔یہ دلیل حضرت مسیح نے بھی انجیل میں استعمال کی ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ:۔"پھر وہ ایک کونگی بدروح کو نکال رہا تھا۔اور جن وہ بد روح نکل گئی تو ایسا ہوا کہ گونگا بولا