آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 389
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 389 باب نہم کے ساتھ سجدہ کر دیا۔کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ آپ نے دین میں نرمی کر دی ہے۔اس روایت کو اتنے طریقوں سے بیان کی گیا ہے کہ ابن حجر مجیسے آدمی بھی کہتے ہیں کہ اس کی تاویل کی ضرورت ہے۔میں اس وقت اس کی تاویل میں نہیں پڑتا کیونکہ اس پر تفصیلی بحث سورۃ حج میں گزر چکی ہے۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کیا واقعہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہوا۔مجھے قاضی عیاض کا یہ قول بے انتہا پسند ہے کہ بعض محدثین کی قلم سے شیطان نے یہ حدیث لکھوادی ہے کو یا اگر شیطان کا تسلط تسلیم ہی کرنا ہے تو کیوں نہ اس کا تسلا محد ثین پر تسلیم کر لیا جائے۔یہ تو قاضی عیاض کا جواب ہے۔قرآنی جواب یہ ہے کہ تلكَ الْغَرًا نَّبِقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَمُرْتَجسی کا فقرہ جہاں جہاں بیان کیا جاتا ہے۔اس کے معا بعد یہ آیت آتی ہے کہ انگم الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَى تِلْتَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيْرى ان هِيَ إِلَّا أَسْمَاءِ سميتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنْزَلَ اللهُ بِهَا مِنْ سُلطن (النجم: ۲۲ (۲۴) یعنی کیا تمہیں تو اپنے لئے بیٹے پسند اور خدا تعالیٰ کے لئے تم لڑکیاں تجویز کر رہے ہو۔یہ تقسیم تو نہایت ہی ناقص اور ظالمانہ تقسیم ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف چند نام ہیں جو تم اور نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لئے ہیں ورنہ اللہ تعالی نے ان بتوں کی تائید کے لئے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔اب بتاؤ کہ کیا اس فرضی کلام کے بعد جو محمد رسول اللہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کوئی شخص ان آیتوں کا منکر یہ خیال بھی کر سکتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عقائد میں نرمی اختیار کرلی ہے اور اس پر کوئی بے وقوف سے بے وقوف مشرک بھی سجدہ کر سکتا تھا۔پس یہ آیات ہی بتا رہی ہیں کہ ان میں وہ فقرے داخل ہی نہیں ہو سکتے تھے جو بتوں کی تعریف میں بیان کئے جاتے ہیں۔آخر کفار عربی تو جانتے تھے کیا وہ اتنا بھی نہیں سمجھ سکتے تھے کہ اس سورۃ کے تو لفظ لفظ میں شرک کی مذمت کی گئی ہے پھر یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے اپنے دینی عقائد میں نرمی اختیار کر لی ہے۔یہی مضمون زیر تفسیر آیات میں بیان کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا یہ التزام کہ اس شخص پر شیطان کلام نازل کرتا ہے درست نہیں کیونکہ