آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 388
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 388 ☆ باب نہم سورۃ الشعراء آیت ۲۱۱ نا۲۱۴ کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود آنحضرت پر شیطانی وحی کے اعتراض کی تردید کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے ایک اعتراض کی تردید فرمائی ہے ان کا اعتراض یہ تھا کہ اس شخص کے ساتھ شیطان کا تعلق ہے اور اس کی طرف سے اس پر کلام نازل ہوتا ہے۔چنانچہ کو قرآن کریم نے ان کے اس اعتراض کی طرف قرآن کریم کے مختلف مقامات میں اشارات ضرور پائے جاتے ہیں۔مثلاً اللہ تعالی سورہ تکویر میں فرماتا ہے۔وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطن رجیم (التکویر (۲۶) یعنی اس رسول ﷺ پر نازل ہونے والا کلام کسی دھتکارے ہوئے شیطان کا قول نہیں۔اسی طرح زیر تغییر آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ السبطین شیطانوں نے اس کلام کو نہیں اُتارا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اس پر شیطان نازل ہوتا ہے افسوس ہے کہ بعض مسلمان مفسرین نے اس قول کو اور بھی پکا کر دیا اور کفار کے ہاتھوں میں انہوں نے ایک خطرناک ہتھیار دے دیا اور وہ اس طرح کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کفار مکہ کے سردار رسول کریم ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ آپ کے ماننے والے تو ادنی لوگ ہیں۔اگر آپ دین میں کچھ زمی کر دیں تو ہم لوگ بھی آپ کے پاس آکر بیٹھا کریں۔اسی طرح دوسرے لوگ بھی آپ کے پاس آنے لگیں گے۔اتنے میں آپ نماز پڑھنے لگے۔جب آپ نے یہ آیت پڑھی کہ آفَرءَ يَتُمُ اللتَ وَالْعُزَّى ومنوة الثالِثَةَ الأخرى کہ تم بھی ذرا لات اور عربی کا حال سناؤ اور تیسرے مناۃ کا بھی جوان کے علاوہ ہے۔تو شیطان نے آپ کی زبان پر یہ کلمات جاری کر دیئے کہ تلک الغَرَائِيقُ العُلى وَإِنْ شَفَاعَتَهُنَّ لَمُرْتَجى - یعنی یہ لمبی گردنیں رکھنے والے بہت بڑی علی شان کے مالک ہیں اور ان کی شفاعت کی یقینی طور پر امید کی جاسکتی ہے۔کفار نے یہ بات سنی تو وہ بڑے خوش ہوئے۔چنانچہ جب آپ نے سورۃ ختم کی اور سجدہ کیا تو سب کفار نے بھی آپ