آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 387 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 387

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 387 باب نہم زبان پر شیطان کا قبضہ خصوصاً وحی کی تلاوت کے وقت تو اتنا بڑا سلط “ ہے کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ہم تو معمولی انسانوں کو دیکھتے ہیں کہ حکومتیں ان پر کتنا ہی جبر کریں وہ ان کے خلاف نعرے لگاتے جاتے ہیں۔پھر یہ کہنا کہ محمد رسول اللہ ﷺ جو سب نبیوں کے بھی سردار تھے شیطان نے ان کی زبان پر تصرف کر لیا اور نعوذباللہ ان کے منہ سے شرکیہ کلمات نکلوا دئے۔یہ تو سورہ بنی اسرائیل والی آیت کی صریح تردید ہے اور قرآن کریم کی کوئی آیت دوسری آیت کی تردید نہیں کر سکتی۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ القرآن وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا لله (النماء: ۸۳) یعنی کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے اگر یہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کا کلام ہونا تو اس میں عظیم الشان اختلاف پائے جاتے۔بعض لوگ غلطی سے بجھتے ہیں کہ اس آیت میں چونکہ کثیراً کا لفظ ہے اس لئے اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا دوسروں کے کلام میں بہت سے اختلاف پائے جاتے ہیں لیکن خدا کے کلام میں بہت سے اختلاف نہیں پائے جاتے۔چونکہ یہاں کثیراً کا لفظ ہے اس لئے یہ آیت اختلاف کو رد نہیں کرتی۔مگر کثیر کے معنے عربی زبان میں عظیم الشان کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ مغروات میں لکھا ہے: وَلَيْسَتِ الْحُفْرَةُ إِشَارَةٌ إِلَى الْعَدَدِ فَقَطْ بَلْ إِلَى الفضل۔(مفردات ) یعنی قرآن شریف میں بعض جگہ جو کثیر کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کے صرف یہ معنے نہیں کہ تعداد میں زیادہ بلکہ مطلب یہ ہے کہ شان میں بڑا اور قرآن کریم میں یہ اختلاف ماننا کہ ایک طرف تو وہ یہ کہتا ہے کہ میرے نیک بندوں پر شیطان کو بھی تصرف نہیں ہوگا اور دوسری طرف وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ہر نبی اور رسول پر شیطان کو تصرف دیا گیا تھا۔وہ اس کی وحی میں اپنی طرف سے کچھ ملا دیتا تھا۔یہ اتنا بڑا اختلاف ہے کہ جس سے بڑا اختلاف قیاس کرنا بھی مشکل ہے۔پس سورہ نساء کی آیت کے مطابق اس کے ایسے معنے کرنے بالکل باطل اور غلط ہیں اور قرآن کریم کی تعلیم کے صریح خلاف ہیں۔“ ( تفسیر کبیر جلد 4 صفحہ ۶۷ تا ۷۵)