آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 386 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 386

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 386 باب نهم سے آتی ہے۔اور اللہ تعالی بڑا جاننے والا اور حکمت والا ہے۔سورۃ الحج کی آیات ۵۴ تا ۶ ۵ کی تشریح میں حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا: اب سوال پیدا ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ شیطان کو نبیوں کے راستہ میں کیوں روکیں ڈالنے دیتا ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ایسا اس لئے کرتے ہیں تا کہ ان شیطانی فتنوں کے ذریعہ نبیوں کی جماعتیں ہر قسم کی منافقت اور بے ایمانی رکھنے والوں سے پاک ہو جائیں اور دشمنوں کی عداوت لوگوں پر ظاہر ہو جائے۔جب شیطان روکیں پیدا کرتا ہے تو جن لوگوں کے دلوں میں بدی ہوتی ہے اور جن کے قلوب سخت ہوتے ہیں وہ اس کی بات مان لیتے ہیں اور بلاوجہ مومنوں پر ظلم کرنے لگ جاتے ہیں۔پس کمزور ایمان والوں کی کمزوری اور دشمنوں کی دشمنی دونوں ظاہر ہو جاتی ہیں اور پتہ لگ جاتا ہے کہ اسلام کے دشمن ضد اور مخالفت میں کس قدر بڑھے ہوئے ہیں۔اور یہ بھی پتہ لگ جاتا ہے کہ اسلام پر سچا ایمان لانے والے لوگ شریروں کی شرارتوں سے ڈرتے نہیں بلکہ ایمان میں اور بھی بڑھتے ہیں۔اور اس طرح مومنوں کو اللہ تعالی ہدایت میں بڑھاتا چلا جاتا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بیان فرمایا ہے کہ جب بھی کوئی نبی آتا ہے اور وہ لوگوں کی اصلاح کی تجاویز کرتا ہے تو شیطان اس کے راستہ میں روکیں ڈالنی شروع کر دیتا ہے مگر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ منافق اور کمزور ایمان لوگ الگ ہو جاتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ اپنے سلسلہ کی مضبوطی اور اس کی عظمت کو اور بھی بڑھا دیتا ہے۔اب ان معنوں پر غور کرو اور دیکھو کہ یہ معنی سے تمام نبیوں کو عموماً اور محمد رسول اللہ ﷺ کو خصوصاً کس طرح شیطان کے تصرف سے محفوظ رکھتے ہیں بلکہ الٹا یہ بتاتے ہیں کہ نبیوں پر شیطان کا تصرف تو الگ رہا شیطان ان سے ماریں کھاتا ہے۔اور جب ہم قرآن کریم کی یہ آیت مد نظر رکھیں کہ اِن عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَّ بنی اسرائیل: ۶۶) کہ میرے بندوں پر تجھے کبھی غلبہ نصیب نہ ہوگا تو میرے کئے ہوئے معنے ہی ٹھیک ثابت ہوتے ہیں اور معتمرین کے کئے ہوئے معنے غلط ثابت ہوتے ہیں۔کیونکہ کسی نبی کی