آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 385 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 385

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 385 باب نہم جوان سلسلوں میں نام کے لحاظ سے شامل ہوتے ہیں جیسے عبد اللہ بن ابی ابن سلول اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے۔اور کبھی ایسے ہوتے ہیں جو نام کی طرف تو منسوب ہوتے ہیں لیکن نظام کی طرف منسوب نہیں ہوتے ہیں جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں خوارج تھے اور کبھی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نہ نام کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور نہ نظام کے لحاظ سے کوئی تعلق رکھتے ہیں۔جیسے مکہ کے کفار اور یہود اور نصاری۔یہ سب لوگ مل کر ان مقاصد میں روک بننا چاہتے ہیں جن کو پورا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے انبیاء دنیا میں مبعوث ہوتے ہیں اور ہر قسم کی مشکلات ان کے راستے میں کھڑی کر دیتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ اپنے نشانات کے ساتھ نبیوں کی تائید کرتا اور شیطان کو اس کے تمام منصوبوں میں نا کام کر دیتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جس طرح شکاری کتے کو اگر کسی چور کے کپڑے کی خوشبو سونگھا کر چھوڑ دیا جائے تو وہ دس میں بلکہ سو میل تک بھی پیچھے جا کر اسے پکڑ لیتا ہے۔اسی طرح شیطان کو بھی تقدس کی خوشبو سے دشمنی ہے اور جس میں سے اسے یہ خوشبو آئے اس پر وہ دیوانہ وار حملہ کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ جس سے تقدس کی خوشبو آتی ہے اسے چیر ڈالے۔جب آدم نے خدا تعالیٰ سے تقدس کی خوشبو پائی تو وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پیچھے دوڑا۔پھر حضرت نوح علیہ السلام آئے اور انہوں نے خوشبو پائی تو وہ ان کے پیچھے دوڑا۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے اور ان کے ذریعہ سے خوشبو پھیلی تو وہ ان کے پیچھے دوڑ پڑا۔پھر حضرت رام حضرت کرشن، حضرت زرتشت ، حضرت عیسی اور حضرت محمد مصطفی لے آئے تو ان کے پیچھے دوڑ پڑا۔اگر ان سب میں ایک ہی قسم کی خوشبو نہ ہوتی تو ان ما الله پر شیطان کا حملہ بھی ایک رنگ میں نہ ہوتا۔چونکہ ان کی خوشبو ایک ہی طرح کی تھی اور وہ تو حید کی خوشبو تھی اس لئے شیطان نے ان کے زمانوں میں حملہ بھی ایک ہی رنگ میں کیا۔مگر فرماتا ہے:۔فَيَنْسَحُ فتح الله مَا يُلقى الشيطنُ ثُمَّ يحكم الله الله وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيم (الحج ۵۳) اللہ تعالی شیطان کی تمام روکوں کو مٹا دیتا ہے اور اس تعلیم کو قائم کر دیتا ہے جو اس کی طرف