آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 384 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 384

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 384 باب نهم پس آج تک کوئی بھی نبی اور رسول ایسا نہیں آیا جس کے ہر مقصد اور ہر مدعا اور ہر خواہش اور ہر ترپ کے آگے شیطان نے روکیں نہ ڈالی ہوں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر نبی کامیاب ہو گیا تو پھر میر اٹھکانا کہیں نہیں۔جس طرح مرتا ہوا آدمی پورا زور لگاتا ہے کہ وہ کسی طرح موت کے پنجے سے نکل جائے اسی طرح شیطان اور اس کی ذریت انبیاء اور ان کی جماعتوں کے خلاف پورا زور لگاتی ہے۔جنہوں نے مرنے والوں کو دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ اس بے ہوشی میں بھی جس میں دنیا و مافیھا کی اسے کوئی خبر نہیں ہوتی جبکہ ساری طاقت زائل ہو چکی ہوتی ہے اور تمام قوت خرچ ہو چکی ہوتی ہے۔مرنے سے چند منٹ پہلے مرنے والا اس طرح زور لگا تا ہے کہ گویا وہ پھر اس دنیا میں واپس آنا چاہتا ہے۔اس کا سارا جسم ہل جاتا ہے ، گر دن اُٹھ جاتی ہے اور وہ اپنی طاقت ا کا آخری ذرہ تک اس کے لئے خرچ کر دیتا ہے کہ بچ جاؤں۔یہ اس انسان کی حالت ہوتی ہے جو بے ہوشی میں ہوتا ہے۔جس کی طاقت خرچ ہو چکی ہوتی ہے۔جو سو کھ کر کانٹا ہو چکا ہوتا ہے۔پھر اس کی کیا حالت ہوگی جو بے ہوش نہ ہو اور جس کی طاقت خرچ نہ ہوئی ہو۔ایک چھوٹے بچے کو ہی کنوئیں میں ڈراوے کے طور پر دھکیل کر دیکھ لوکس طرح وہ چھٹ جاتا ہے اور عام طاقت سے آٹھ دس مجھے زیادہ طاقت اس میں پیدا ہو جائے گی۔ایک ایسا آدمی جسے کشتی میں پہلوان ایک منٹ میں گرا سکتا ہے اس کے متعلق پہلوان سے کہو کہ اسے کنوئیں میں گرا کر دیکھے تو ایک منٹ چھوڑ ایک گھنٹے میں بھی نہیں گرا سکے گا۔اس لئے کہ کشتی میں تو وہ سمجھتا ہے مقابلہ ہے اگر گر بھی گیا تو کیا ہوا۔مگر جب وہ یہ سمجھے کہ موت آنے لگی ہے تو اپنی ساری طاقت خرچ کرے گا اور اتنا زور لگائے گا کہ اول تو زیر دست کے برابر ہو جائے گاورنہ اس کے قریب قریب رہے گا۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں کوئی سلسلہ قائم کیا جاتا ہے تو اس وقت ایسی ارواح محیثہ جو شیطان سے تعلق رکھتی ہیں یا بعض گناہوں کی وجہ سے شیطان نے ان پر تصرف پایا ہوا ہوتا ہے جوش میں آجاتی ہیں اور سارا زور اس بات کے لئے صرف کرتی ہیں کہ کسی طرح سچائی دنیا میں نہ پھیلے۔یہ لوگ جو الہی سلسلوں کے مقابلہ میں کھڑے ہوتے ہیں کبھی تو ایسے ہوتے ہیں