آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 383 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 383

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 38۔3 باب نہم اور بتا تا ہوں کہ اس آیت کا وہ مفہوم نہیں جو مفسرین نے لیا ہے۔اس آیت کے مفسرین تو یہ معنے کرتے ہیں کہ تجھے سے پہلے جتنے نبی اور رسول گزرے ہیں جب کبھی وہ اپنی وحی کی تلاوت کیا کرتے تھے شیطان ان کی وحی میں کچھ ملا دیا کرتا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ شیطان کے ملائے ہوئے کو منسوخ کر دیتا تھا اور اپنی آیات مضبوط کر دیتا تھا۔لیکن یہ معنے بالکل غلط ہیں۔اول تو اس لئے کہ تمٹی کے معنے صرف پڑھنے کے نہیں ہوتے بلکہ ارادہ کرنے کے بھی ہوتے ہیں اور امنیة کے معنے صرف تلاوت کے ہی نہیں ہوتے بلکہ مطلوب و مقصود کے بھی ہوتے ہیں (اقرب ) ان دونوں لفظوں کے مذکورہ بالا معنے مد نظر رکھتے ہوئے آیت کے معنے یوں ہوں گے کہ ” ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر جب بھی وہ کوئی ارادہ کرتا تھا شیطان اس کے ارادہ میں کچھ ڈال دیتا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے کو راستے سے ہٹا دیتا ہے اور اپنے نشانوں کو قائم کر دیتا ہے۔ان معنوں کو دیکھو تو پتہ لگ جائے گا کہ مفسرین کے معنے یہاں چسپاں ہی نہیں ہو سکتے۔ان معنوں کی رو سے اس آیت کے معنے صرف یہ بنتے ہیں کہ کوئی رسول اور نبی نہیں گزرا جس کے ارادوں یعنی شرک کے تباہ کرنے کے ارادوں کو نا کام رکھنے کے لئے شیطان کوئی روکیں نہ ڈالتا ہو۔لیکن نبیوں کے مطلوب و مقصود کو نا کام کرنے کیلئے شیطان خواہ کتنی کوششیں کرے اور ان کے راستہ میں کتنی مشکلات بھی ڈالے اللہ تعالی شیطان کی ڈالی ہوئی مشکلات کو ان کے راستہ سے ہٹا دیتا ہے اور نبیوں کو کامیاب بنانے کے لئے جن نشانوں کی خبر دیتا ہے ان کے پورا ہونے کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔سو اس طرح نبی جیت جاتے ہیں اور شیطان ہار جاتا ہے۔اب جو تا ریخی واقعات ہیں ان سے بھی لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ آیا جو مشتر ین نے معنے کئے ہیں وہ واقعات کے مطابق ہیں یا جو ہم نے معنے کئے ہیں وہ واقعات کے مطابق ہیں۔تفسیری معنوں کے مطابق محمد رسول اللہ ﷺ کو ہارنا چاہئے تھا اور شرک کو غالب آجانا چاہئے تھا۔لیکن ہوا یہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے خانہ کعبہ میں رکھتے ہوئے بتوں کو اپنے ہاتھ سے تو ڑا اور شرک ہمیشہ کے لئے مٹ گیا۔