آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 382 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 382

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 382 باب نہم گیا ہے کہ آفرء يتُمُ الله وَالْعُزَّى یعنی بتاؤ تو سہی کہ کیا تم نے بھی محمد رسول اللہ کی طرح اپنے بتوں کا کوئی نشان دیکھا ہے؟ یعنی تم نے نہیں دیکھا مگرمحمد رسول اللہ ﷺ نے الله اپنے خدا کے بڑے بڑے نشانات دیکھے ہیں۔یہ تو شرکیہ آیات سے پہلے کی آیتیں ہیں۔اور ان شرکیہ آیات کے بعد کی یہ آیت ہے کہ ان میں إلَّا أَسْمَاءُ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَابَّاؤُ ُكم مَّا أَنزَلَ اللهُ بِهَا مِن سلطن (جم: ۲۴) یعنی یہ چوں کے (النجم نام تو تم نے خود رکھ لئے ہیں خدا تعالیٰ نے اس کے لئے کوئی دلیل نہیں اتاری۔اب بتاؤ کہ کیا یہ ممکن ہے کہ شرک کے اقرار سے پہلے بھی شرک کی تردید کی آیتیں ہوں اور ان کے بعد بھی شرک کی تردید کی آیتیں ہوں۔باوجود اس کے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ ان دو تر دیدوں کے درمیان محمد رسول اللہ کی زبان پر شیطان نے شرک کے کلمات جاری کر دئے تھے۔شیطان کو تو ہمارے مفسر عقلمند کہتے ہیں۔یہاں تک کہ سورہ بقرہ کی آیات میں شیطان کو فرشتوں کا استاد قرار دیتے ہیں اور شیطان اور خدا تعالیٰ کے مباحثے میں خدا کو ہرایا گیا ہے۔مگر اس کہانی والا شیطان تو کوئی گدھا معلوم ہوتا ہے کہ اس کو شرکیہ کلمات کے لئے دو زبر دست تو حیدی آیات کے درمیان ہی مقام ملا۔اس شیطان کو تو پاگل خانہ میں داخل کرنا چاہیئے۔ایسا انو خدا کے بندوں کو بہکاتا کس طرح ہے؟ پھر یہ لطیفہ دیکھو کہ یہ سورۃ اس آیت پر ختم ہوئی ہے فاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا کا موکہ لوگو اللہ کے سامنے سجدہ کرو اور صرف اس کی عبادت کرو۔اس آیت کو سن کر کون گدھا تھا جو یہ سمجھتا تھا کہ محمد رسول اللہ نے کوئی شرکیہ کلمات کہہ دئے ہیں۔غرض اس سورۃ کی آیت آیت ہی اس کہانی کو رڈ کر رہی ہے۔یہ اندرونی شہادت ہے اور بیرونی شہادت یہ ہے کہ مہاجرین حبشہ اس کہانی کو سن کر اس وقت مکہ میں واپس نہیں آسکتے تھے جس وقت وہ آئے جیسا کہ میں پہلے ثابت کر چکا ہوں۔اب میں سورہ حج کی زیر تغییر آیت کو لیتا ہوں جس کی بناء پر اس واقعہ کو جائز قرار دیا گیا ہے