آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 381 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 381

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 381 باب نہم اب یہ تدبیر تبھی کامیاب ہو سکتی تھی جبکہ کوئی شرکیہ آیتیں اس مجلس میں کہلائی جاتیں جس الله میں آپ نے تلاوت کی تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے نہیں بلکہ کسی خبیث کا فرنے اپنے سرداروں کے مشورہ سے پیچھے سے یہ فقرے پڑھ دیئے اور بوجہ اس کے کہ سینکڑوں آدمی موجود تھے اور مکہ کے سارے رؤساء جمع تھے شور میں پہنچا نا نہیں گیا کہ یہ آواز کس کی ہے اور کفار نے مشہور کر دیا کہ چونکہ محمد رسول اللہ ﷺ نے یہ فقرے کہے ہیں اس لئے ہم نے سجدہ کر دیا تھا۔جولوگ مجلس کے کناروں پر بیٹھے تھے انہوں نے بھی چونکہ یہ فقرے اسی منطقی شیطان کے منہ سے منے تھے جس نے یہ فقرے آپ کی تلاوت کے وقت بآواز بلند کہہ دئے تھے اس لئے ان لوگوں نے بھی یہ خیال کیا کہ شاید محمد رسول اللہ ا نے ہی یہ فقرے کہے ہوں۔پس اس کہانی کا حل تو یہ ہے کہ محمد رسول اللہ اللہ کی تلاوت کے وقت کفار نے پہلے سے سوچے سمجھے ہوئے منصوبہ کے مطابق کسی خبیث سے یہ فقرے بلند آواز سے کہلا دیے اور ان کی سکیم کا ثبوت یہ ہے کہ مہاجرین حبشہ اس وقت سے پہلے مکہ پہنچ گئے۔جبکہ سورہ نجم والے واقعہ کوسن کر وہ مکہ آسکتے تھے۔بلکہ اگر اس وقت ہوائی جہاز بھی ہوتے تو جتنے وقت میں وہ آسکتے تھے اس سے بھی پہلے پہنچ گئے۔پس ان کا وقت سے پہلے مکہ آجانا بتاتا ہے کہ وقت سے پہلے ان کو کہلا بھیجا گیا تھا کہ مکہ والے مسلمان ہو گئے ہیں اور عین ان دنوں میں جبکہ وہ سکیم کے ماتحت آسکتے تھے مکہ والوں نے یہ اوپر کے الفاظ کسی خبیث کے منہ سے بلند آواز سے کہلوا دیئے۔پھر اگر ان تفسیروں کو نظر انداز کر دیا جائے جو صراحتنا قرآن کریم کے خلاف ہیں تو یہ سورۃ ہی اس واقعہ کی تردید کرتی ہے کیونکہ ان آیتوں سے پہلے جن میں کہا گیا ہے کہ شیطان نے شرکیہ الله مضمون ملا دیا تھا یہ ذکر ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے خدا کو دیکھا ہے بلکہ یہ بھی کہ دو دفعہ دیکھا ہے۔چنانچہ پہلے فرمایا وَ لَقَدْرَاهُ نَزْلَة أخرى النجم (۱۴) یعنی اس نے یقیناً اپنے خدا کو ایک دفعہ اور دیکھا ہے اور پھر فرمایا لقد رأى من انت ربه الكبرى (الحجم (۱) محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کے بڑے بڑے نشانات دیکھے ہیں۔اس کے مقابلہ میں کافروں کو کہا