آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 380 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 380

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 380 باب نهم سورہ نجم کی تلاوت کا واقعہ اور مسلمانوں کے حبشہ سے آنے کا واقعہ اتنا قریب قریب ہے کہ خود جغرافیہ اس کو رد کرتا ہے۔مکہ سے اس زمانہ کی بندرگاہ شعیبہ کا فاصلہ اسکیلے سوار کے لئے کم از کم چار پانچ دن کا بنتا ہے۔چنانچہ زرقانی میں لکھا ہے مسافتها طويلة جداً كہ مکہ سے شعبہ کا فاصلہ بہت زیادہ ہے اور وہاں سے حبشہ کی بندرگاہ کا فاصلہ بھی کوئی چارپانچ دن کا بنتا ہے۔کیونکہ اس زمانہ میں لوگ صرف بادبانی کشتیوں میں سفر کرتے تھے اور وہ بھی ہر وقت نہیں چلتی تھیں کیونکہ کوئی جہاز رانی کی کمپنیاں نہیں ہوتی تھیں۔جب کسی ملاح کو فرصت ہوتی تھی وہ اپنی کشتی اُدھر لے آتا تھا جس میں بعض دفعہ مہینوں کا فاصلہ ہو جاتا تھا۔اور حبشہ کی بندرگاہ سے لے کر اس زمانہ کے حبشہ کے دارالحکومت کا فاصلہ کوئی دو مہینہ کا سفر ہے۔گویا اگر یہ خبر سورہ نجم کی تلاوت کے بعد مکہ سے جاتی اور پھر مسلمان وہاں سے روانہ ہوتے تو مختلف فاصلوں اور دربار حبشہ کی اجازت وغیرہ کے زمانہ کو ملا کر کوئی اڑھائی تین ماہ میں لوگ واپس آسکتے تھے۔مگر وہ سجدہ والے واقعہ کے بعد پندرہ میں دن کے اندراند رواپس آگئے۔کیونکہ مسلمان حبشہ جانے کے لئے رجب میں روانہ ہوئے تھے اور شعبان و رمضان حبشہ میں ٹھہرے اور شوال میں واپس پہنچ گئے (زرقانی ) اور حبشہ ٹھہر نے اور واپس مکہ پہنچنے کا کل عرصہ تین ماہ سے بھی کم بنتا ہے۔(سیرۃ الحلبیہ ) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سورہ نجم کی تلاوت والا واقعہ بنایا گیا ہے۔یعنی بعض مکہ کے سرداروں نے پہلے سے یہ تہ پیر سوچی اور کوئی سوار حبشہ دوڑا دیا کہ مسلمانوں میں جا کر مشہور کر دو کہ مکہ کے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں اور انہوں نے محمد رسول اللہ کے ساتھ مل کر سجدہ کیا ہے۔لیکن جب انہوں نے اندازہ کیا کہ اب حبشہ والے آنے ہی والے ہوں گے تو سوچا کہ ہم ان کے آنے پر کیا جواب دیں گے کیونکہ آکر وہ دیکھیں گے کہ مکہ والے تو ابھی تک کافر ہیں اس لئے یہ مشہور کر دیا کہ سجدہ کرنا ( نعوذباللہ ) شرکیہ آنتوں کی وجہ سے تھا۔اور محمد رسول اللہ ﷺ کا ان آیتوں کو منسوخ کرنا جو در حقیقت منسوخ کرنا نہ تھا بلکہ یہ اعلان کرنا تھا کہ ایسی کوئی آیتیں میں نے نہیں پڑھیں ، کفار مکہ کے واپس کفر پر آجانے کی وجہ تھا۔