آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 379
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 379 باب نہم کرتا ہے اور نبی کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی اصلاح ہو جائے۔اس وقت شیطان جو اس کی کامیابی کو نا پسند کرتا ہے اس کے راستہ میں روکیں ڈال دیتا ہے۔آلقی کے معنے ڈال دینے کے ہوتے ہیں۔پس القى الشيطن في أمنيته " کے یہی معنے ہیں کہ اس کی خواہشوں کے راستہ میں کوئی چیز ڈال دیتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ شیطان روک ہی ڈالے گا نبی کی مدد تو نہیں کرے گا۔پس ان الفاظ سے یہ معنے لینا کہ شیطان اس کی زبان پر شرکیہ الفاظ بھی جاری کر دیتا ہے صریح ظلم ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ اوپر کے بیان کردہ واقعہ کی روایت کو بڑے پایہ کے محدثین ر کہ نے صحیح تسلیم کیا ہے۔چنانچہ ابن حجر جیسا محدث لکھتا ہے۔ان ثلاثة اسانيد منها على شرط الصحيح (فتح البیان ) یعنی مختلف راویوں سے جو بڑے انقہ تھے یہ روایت آتی ہے جن میں سے تین روایتیں اتنی معتبر ہیں جتنی بخاری کی۔اسی طرح بزاز اور طبرانی نے بھی اسے درست تسلیم کیا ہے۔(ھمیان الزاد ) جس کی وجہ سے ہم اس روایت کو کلی طور پر رڈ نہیں کر سکتے۔لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے اس کا حل سمجھا دیا ہے جو یہ ہے کہ جب مسلمان ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تو مکہ والوں کو ان کا حبشہ جانا بڑا برا لگا اور انہوں نے اپنے بعض آدمی نجاشی شاہ حبشہ کے پاس بھیجے کہ کسی طرح ان کو سمجھا کر واپس مکہ لے آئیں۔(سیرۃ الحلبیہ ) اور تاریخوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ جس وقت یہ سجدہ والا واقعہ ہوا اس وقت کچھ مہاجرین حبشہ سے لوٹ کر مکہ آگئے۔اور جب ان سے لوگوں نے پوچھا کہ تم لوگ واپس کیوں آگئے ہو تو انہوں نے کیا ہمیں تو یہ اطلاع پہنچی تھی کہ مکہ کے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں۔(ابن خلدون ) مکہ کے جو لوگ ان سے ملے تھے انہوں نے کہا کہ مکہ والے تو کوئی مسلمان نہیں ہوئے۔بات یہ ہے کہ تمہارے رسول نے قرآن کی کچھ آیتیں ایسی پر بھی تھیں جن سے شرک کی تائید ہوتی تھی اس لئے تمہارے رسول کے ساتھ مل کر مکہ والوں نے بھی سجدہ کر دیا مگر جبکہ بعد میں تمہارے رسول نے ان آیتوں کو منسوخ قرار دے دیا تو مکہ والے پھر اپنے دین کی طرف لوٹ آئے۔یہ باتیں سن کر وہ مہاجر پھر واپس حبشہ چلے گئے۔(سیرۃ الحلبیہ )