آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 378 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 378

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 378 باب نهم سب کفار نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر سجدہ کر لیا ہے۔مسلمان مفسر کہتے ہیں کہ یہ آیتیں جو آپ نے پڑھیں کہ وَ تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَىٰ وَإِنَّ شَفَا عَتَهُنَّ لَمرتجی۔یہ قرآن کا حصہ نہیں تھیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے بعد میں ان کو منسوخ کر دیا۔چنانچہ موجودہ قرآن میں یہ آیتیں نہیں ہیں۔وہ اس کہانی کی حقیقت یہ بیان کرتے ہیں کہ سورہ حج میں یہ آیت آتی ہے کہ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِي إلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْظن في أمنيه : (الحج ۵۳) یعنی ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر اس کی یہ حالت تھی کہ جب کبھی وہ وحی پڑھتا تھا شیطان اس کی وحی میں اپنی طرف سے کچھ ملا دیتا تھا۔پھر بعد میں خدا تعالی شیطانی وحی کو منسوخ کر دیتا تھا۔اسی طرح جب رسول کریم ﷺ نے سورہ نجم کی آیتیں خانہ کعبہ میں پڑھیں تو شیطان نے (نعوذ باللہ من ذالک) آپ کی وحی میں یہ بات ملا دی کہ وَ تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرنجی جب رسول کریم ﷺ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے تو مکہ کے کفار نے سمجھا کہ آپ نے اپنے دین میں کچھ تبدیلی کر دی ہے اور آپ کے ساتھ سجدہ میں شامل ہو گئے۔جب مکہ میں شور پڑ گیا کہ کفار مسلمان ہو گئے ہیں تو کفار نے کہا کہ ہم نے تو صرف اس لئے سجدہ کیا تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی تلاوت میں یہ فرمایا تھا کہ وَتِلْكَ الْفَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرنجی جس میں صاف طور پر ہمارے بتوں کو تسلیم کر لیا گیا تھا۔پس جب محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمارے بتوں کو تسلیم کر لیا تو ہم نے بھی جواب میں ان کے خدا کے آگے سجدہ کر دیا۔جب کفار کا یہ قول مشہور ہوا تو مفسرین کہتے ہیں کہ چونکہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ اس وقت کوئی آواز آئی تھی جس میں یہ الفاظ سنے گئے تھے کہ وتِلْكَ الْغَرَائِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَمُرْتَجی اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ ہر نبی کی زبان پر شیطان کبھی کبھی خدائی منشاء کے خلاف الفاظ جاری کر دیتا تھا۔لیکن اس آیت میں الفاظ جاری کرنے کا کوئی ذکر نہیں بلکہ آیت کے صرف اتنے معنے ہیں کہ جب کوئی نبی دنیا میں کوئی خواہش الله