آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 377
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 877 باب نہم کفار کے بتوں کو تسلیم کرنے اور شرکیہ کلمات کہلوانے کا الزام مندرجہ بالا الزام کا رد حضرت مصلح موعودؓ نے سورۃ الحج کی آیت ۵۳ تا ۵۶ کی تشریح میں بیان فرمایا ہے۔آیت ۵۳ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : یہ آیت قرآن کریم کی نہایت آسان آیت بھی ہے اور اس کو مفسرین نے خطر ناک آیت بھی بنا دیا ہے اور وہ اس طرح کہ وہ اس آیت کو سورہ نجم کی بعض آیات سے ملا دیتے ہیں اور پھر بعض خیالی دقتوں کے ذریعہ سے اس کو ایک نہایت ہی خطرناک حربہ اسلام کے خلاف بنا دیتے ہیں۔حالانکہ سورہ حج اور سورہ نجم کا کوئی بھی جوڑ نہیں۔سورہ مجھم کی جن آیتوں کو ان کے ساتھ ملا کر ایک ہوا ابنا دیا گیا ہے وہ یہ ہیں : افَرَ يَتُمُ اللَّهَ وَالْعُزَّى وَمَنْوةَ الثَّالِثَةَ الأخرى (الم ۲۳۰) :۲۱،۲۰) افَرَيْتُمُ مفسرین کہتے ہیں کہ رسول کریم ایک دفعہ خانہ کعبہ کے صحن میں آئے اور سب کفار بھی وہاں جمع ہو گئے اور آپ نے یہ آیتیں پڑھنی شروع کیں کہ آفرَ يَتُمُ اللتَ وَالْعُزَّى وَمَنْوة الثَّالِثَةَ الأخرى اور اس کے بعد آپ نے فرمایا وَ تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَىٰ وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرتجی یعنی یہ تینوں اونچی گردنوں والے دیوتا ہیں اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے۔(نعوذُ بِاللهِ مِن تِلكَ العُرَافاتِ ) اس کے بعد جب سورۃ کے آخر تک پہنچے تو آخری آیت یہ تھی فَاسْجُدُوا لِلهِ وَاعْبُدُوا (النجم :۲۳) اور تم اللہ کے حضور ہی سجدہ کرو اور اس کی : : فرمانبرداری کرو۔چونکہ اس جگہ قرآن کریم میں سجدہ کرنے کا حکم ہے۔آپ نے اس جگہ سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ صحابہ نے بھی اور کفار نے بھی سجدہ کیا بلکہ ولید بن مغیرہ جو ایک خطر ناک دشمن اسلام تھا اس نے بھی زمین پر سے کنکر اٹھا کر اپنے ماتھے کو لگا لئے کو یا سجدہ کر لیا۔یہ واقعہ جب مکہ میں مشہور ہوا تو ایک شور مچ گیا۔لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ سارا مکہ مسلمان ہو گیا ہے کیونکہ