آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 371
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 371 باب هشتم بھی پہلے چودہ سال کی عمر میں ایمان لے آئے تھے۔باپ کفار کی طرف سے لڑائی میں شامل ہوتا تھا تو بیٹا رسول کریم ﷺ کی طرف سے لڑائی میں شامل ہوتا تھا پھر حضرت عبداللہ کی بھی آگے اولا د چلی۔پھر اسلام کے دشمن ابو سفیان کی بھی اولاد تھی۔آپ کا بیٹا معاویہ تھا جس سے بنوامیہ ہوئے۔جنہوں نے اسپین میں حکومت کی اور اب تک بھی ابو سفیان کی نسل پائی جاتی ہے۔غرض آپ کے شدید سے شدید دشمن کی بھی اولا د چلی۔بلکہ جن لوگوں کے متعلق روایت میں یہ آتا ہے کہ انہوں نے آپ کو بہتر کہ وہ بھی صاحب اولاد ہوئے اور اُن کی نسل چلی مگر اُن کے مقابلے میں رسول کریم ﷺ کی کوئی نرینہ اولا د زندہ نہیں رہی بیٹے ہوئے مگر فوت ہو گئے۔آخری عمر میں ماریہ قبطیہ سے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے۔مگر وہ بھی دو سال زندہ رہ کر فوت ہو گئے۔اب یہ ایک عجیب بات ہے کہ قرآن کریم تو کہتا ہے کہ ہم نے تجھے کوثر عطا فر مایا ہے جس کے نتیجہ میں تیرا دشمن ہی ابتر ہو گا اور اس کی نرینہ اولاد نہیں چلے گی۔مگر واقعات اس کے خلاف ہیں۔آپ کے ہر دشمن کے ہاں قریبا لڑ کے ہی تھے اور ان کی نسلیں قائم رہیں۔مگر محمد رسول اللہ ﷺ کا کوئی لڑکا زندہ نہیں رہا اور اس طرح آپ کی جسمانی نسل ختم ہو گئی۔پس اس آیت پر یہ ایک بڑا بھاری اعتراض پیدا ہوتا ہے اور ایک مسلمان حیران ہوتا ہے کہ اس کا جواب کیا دے۔اس اعتراض کے جواب میں یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ اِن شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ دراصل انا اعطینک الکوثر کے مقابلہ میں ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد الله رسول اللہ علے ہم نے تجھے کوثر عطا کیا ہے۔پس تو دعائیں مانگ اور قربانیاں پیش کر۔اس کے نتیجہ میں تیرا دشمن ہی بے اولا در ہے گا۔میں بتا چکا ہوں کہ لغت میں کوثر کے معنے الرجلُ المِعْطَاء کے بھی آتے ہیں جس کے معنے ہیں بڑا سخی آدمی یا صاحب الخیر الکثیر۔وہ آدمی جس کے اندربڑی خیر اور برکت پائی جائے۔پس آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم تجھے ایک بہت بڑی خیر و برکت رکھنے والے اور یخنی انسان دینے کی خبر دیتے ہیں۔اُس انسان کے ملنے کے شکریہ میں تو دعائیں مانگ اور قربانیاں پیش کر اس کے نتیجہ میں تیرا دشمن تو نرینہ اولاد سے محروم رہے گا اور تونر بین اولا دوالا ہو جائے گا۔میں یہ بھی بتا چکا ہوں کہ یہ علامتیں جو یہاں بیان کی گئی ہیں کہ رجل +