آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 370 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 370

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 370 باب هشتم ابتر کے معنے او پر بتائے جاچکے ہیں کہ جس کی اولاد نہ ہو یا جس کے ہاں کوئی لڑکا نہ اُوپر ہو۔چونکہ روایت میں آتا ہے کہ دشمن کے اعتراض کے جواب میں یہ آیت ہے اور دشمن کا اعتراض یہ نہ تھا کہ آپ کی اولاد نہیں بلکہ یہ تھا کہ آپ کے ہاں لڑکا نہیں اس لئے اس آیت میں لڑکے کے معنے ہی کئے جائیں گے اور ان سانتك هو الانتر کے یہ معنے ہوں گے کہ دشمن کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ہاں لڑکا نہیں اور اُس کے ہاں ہے۔یہ دشمن جھوٹا ثابت ہوگا اور دنیا دیکھ لے گی کہ دشمن تو بغیر بیٹے کے رہے گا اور رسول کریم ﷺ کے ہاں لڑکا ہوگا کیونکہ " تیرا دشمن ہی بغیر لڑکے کے ہو گا" کے الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ دشمن کے ہاں لڑکا نہ ہوگا اور آپ کے ہاں ہو گا مگر جب ہم واقعات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم کے جتنے دشمن تھے وہ سب صاحب اولاد تھے بلکہ اُن کی اولاد کی بھی آئندہ نسلیں چلیں اور اُن میں سے کوئی بھی ابتر نہ رہا۔ابو جہل کو ہی لو۔وہ رسول کریم ﷺ کا کتنا شدید دشمن تھا۔مگر اُس کالڑ کا عکرمہ موجود تھا جو جوان ہوا اور اس کی اولاد اب تک موجود ہے۔مگر وہ ابو جہل کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہیں کرتی۔درمیان میں کسی اولاد کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتی ہے۔اُس کی اولا د عرب میں بھی پائی جاتی ہے ، ہندوستان میں بھی پائی جاتی ہے اور پنجاب کے ضلع سرگودھا میں بھی پائی جاتی ہے۔پھر آپ کے بڑے دشمن عقبہ اور ولید تھے۔تقیہ کی اولاد کا مجھے علم نہیں لیکن ولید کے بیٹے حضرت خالد تھے۔جن پر مسلمان آج تک فخر کرتے ہیں۔پھر اُن کی بھی آگے اولاد چلی۔وہ عبدالرحمن خالد مگا ہی بیٹا تھا جس کو انگریزی کتب میں مگیٹس قاضی لکھا جاتا ہے یعنی کمند ج۔حضرت عبد الرحمن بڑے ذہین اور سمجھدار تھے ، بڑے دہد بہ والے تھے اور انہوں نے اسلام کی بڑی خدمات سر انجام دی ہیں۔پھر آپ کا بڑا دشمن عاصی تھا۔حضرت عمرو بن عاص عاصی کے ہی بیٹے تھے جو اسلام کے ایک بڑے جرنیل گزرے ہیں۔انہوں نے مصر فتح کیا ، شام کی لڑائیاں لڑیں اور اپنے پیچھے اولا دچھوڑی۔آپ کے بیٹے عبد اللہ رسول کریم ﷺ کے مقرب صحابی تھے اور وہ اپنے باپ سے