آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 369
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 369 لوگوں کی تردید میں ہی یہ سورۃ اُتاری۔تاریخوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ کو ابتر کہنے والا صرف عاص بن وائل ہی نہیں تھا بلکہ اور لوگ بھی تھے جو آپ کو ابتر کہا کرتے تھے۔ابو جہل کے متعلق بھی آتا ہے کہ وہ بھی آپ کو ابتر کہا کرتا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اُن سب کی نرینہ اولاد تھی لڑکے تھے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی لڑکا نہیں تھا۔اور جتھہ بندی کے لحاظ سے عرب میں لڑکے کی قدر ہوتی تھی۔ان لوگوں کا خیال تھا کہ جب آپ وفات پا جائیں گے تو ساتھ ہی آپ کا قائم کردہ سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔وہ آپ کے سلسلہ کو عارضی شورش سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ کی مخالفت کی کوئی ضرورت نہیں۔مخالفت سے خواہ مخواہ اس سلسلہ کو ترقی مل رہی ہے۔" (تفسیر کبیر جلدہ اصفہ ۲۲۶،۲۲۵) سورۃ الکوثر کی تفسیر میں فرمایا : احادیث میں آتا ہے کہ بعض کفار رسول کریم ﷺ کے متعلق کہا کرتے تھے کہ یہ تو نعوذباللہ ابتر ہے۔اس کا سلسلہ بہت جلد ختم ہو جائے گا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ إن شات هو الانتر لیکن چونکہ آپ کی بیٹیاں تھیں بیٹے نہیں تھے۔اس لئے مفسرین کہتے ہیں کہ ابتر اُسے کہتے ہیں جس کا کوئی بیٹا نہ ہو۔لیکن اس کے عام معنے یہی ہیں کہ خواہ بالکل بے اولاد ہو یا نرینہ اولاد سے محروم ہو ا سے ابتر کہتے ہیں تاج العروس جو عربی لغت کی دو بڑی کتابوں میں سے ایک ہے۔اس میں لکھا ہے الا بصرُ المُرُّ الَّذِي لَا وَلَدَ لَها بترا۔کہتے ہیں جولا ولد ہونے کی صورت میں وفات پا جائے وَقَدْ يُقَالُ لَمْ يَحْنُ يَوْمًا وُلِدَ لَّهُ - اور اس شخص کو بھی ابتر سمجھا جاتا ہے جس کی بھی بھی کوئی اولاد نہ ہوئی ہو۔وفيه نظر لیکن یہ درست نہیں - لأنَّه وُلِدَ لَهُ قَبْلَ الْبَعْثِ وَالْوَحْى کیونکہ رسول کریم ﷺ کو دشمن ابتر کہتے تھے حالانکہ بعثت اور روحی سے قبل دونوں وقتوں میں آپ کے اولاد پیدا ہوئی تھی۔إِلَّا أَنْ يَكُونَ آزاد لم يعش له ولد ذکر۔ہاں آپ کی نرینہ اولا وزندہ نہیں رہی تھی۔گویا اگر کسی کی پہلے نرینہ اولاد موجود ہو لیکن بعد میں مرجائے تب بھی وہ ابتر کہلائے گا اور اگر پیدا ہی نہ ہو تب بھی وہ ابتر کہلائے گا۔