آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 367
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 367 باب هشتم ایک نہ دو بلکہ صد ہا شریر انفس اور خبیث الطبع آدمی تھے جن کی اولاد کی ہزا ر ہا تک نوبت پہنچی تھی۔پس اگر اُن کی زندگی میں ہی اُن کی تمام اولا د مر جاتی تو ملک میں ایک کہرام مچ جاتا۔کیونکہ معجزہ کے طور پر ہزا رہا بچوں کا مر جانا اور پھر لاولد ہونے کی حالت میں ان کے باپوں کا مرنا یہ ایسا معجزہ نہیں تھا جو مخفی رہ سکتا اور ضرور تھا کہ احادیث اور تاریخوں کی کتابوں میں اس کا ذکر ہوتا۔پس اس سے یقینی طور پر ثا بت ہوتا ہے کہ اکثر اُن کے اولاد چھوڑ کر مر گئے تھے اور بعد میں پیشگوئی کے مطابق آہستہ آہستہ ان کی نسل منقطع ہو گئی پس قرآن شریف کی یہ پیشگوئی جو قریش کے کافروں کے حق میں تھی یعنی ان سانت هُو الابتر یہ بعینہ اسی رنگ کی پیشگوئی ہے جو میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر سعد اللہ لودھیانوی کے حق میں کی تھی۔پس اسی طرح اُس کا ظہور ہوگا جس کے کان سننے کے ہوں سُنے۔بقیہ ترجمہ لسان العرب کا یہ ہے کہ ابتر مفلس کو بھی کہتے ہیں اور اس شخص کو بھی جو خسارہ میں ہو۔اور اُن چیزوں کو ابتر کہتے ہیں جو مشکیزہ اور بوکا وغیرہ میں سے قبضہ نہ ر کھتے ہوں۔هیقته الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۴۲۴۳۹) ☆ آنحضرت پر کفار نے ابتر ہونے کا الزام لگایا جس کا رڈ سورۃ الکوثر میں اللہ نے فرمایا ہے۔اس کی تفسیر میں حضرت مصلح موعودؓ نے اس اعتراض کے پس منظر اور پھر اس کے جواب کو بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں: کچھ لوگ ایسے بھی تھے جولوگوں سے کہا کرتے تھے کہ اگر محمد (ﷺ) کی تم مخالفت کرو گے اور اسے مارو پیو گے تو خواہ مخواہ لوگوں کی توجہ اس کی طرف منعطف ہوگی۔کیونکہ باہر کے لوگ مکہ آتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ تم محمد (ع) کو ایذائیں دیتے ہو، مارتے ہو، پیٹتے ہو تو وہ اس کے متعلق پوچھنے لگ جاتے ہیں اور اس کے معاملہ میں دلچسپی لینے لگ جاتے ہیں۔اس طرح اُسے اہمیت اور عظمت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔کو اس کی باتیں ہمیں پسند نہیں ہیں۔کو