آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 366
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 366 باب هشتم اور باقی ترجمہ یہ ہے کہ اس جگہ ابتر کے یہ معنی بھی جائز ہیں کہ ابتر اس کو کہتے ہیں کہ ہر ایک خیر سے محروم اور بے نصیب ہو او را ابن عباس کی حدیث میں ہے کہ جب ابن اشرف مکہ میں آیا تو اُس کو قریش نے کہا کہ تو سب مدینہ والوں سے بہتر اور اُن کا سردار ہے۔اُس نے کہا کہ ہاں میں ایسا ہی ہوں تب قریش نے کہا کہ کیا تو اس شخص کی طرف نہیں دیکھتا (یعنی آنحضرت مﷺ کی طرف) یہ ایک کمزور اور ضعیف اور گمنام شخص ہے نہ اس کا کوئی بیٹا اور نہ کوئی بھائی اور نہ کوئی دوستوں کی جماعت اس کے ساتھ ہے بلکہ ایک فرد واحد کیلی جان ہے اور قوم میں سے کانا ہوا ہے یعنی قوم نے باعث مخالفت مذہب اپنی جماعت میں سے اس کو خارج کر دیا ہے اور فتویٰ دے دیا ہے کہ کوئی اس کے ساتھ میل ملاپ نہ کرے اور نہ کوئی اس کی ہمدردی کرے اور با وجود اس بات کے کہ یہ شخص کچھ بھی عزت نہیں رکھتا اور اس کو کوئی جانتا نہیں کہ کون ہے پھر یہ گمان کرتا ہے کہ ہم سے بہتر ہے۔لیکن ہم ایک معزز جماعت ہیں تمام حج کرنیوالے ہم میں سے ہیں اور ہم اُن کے سردار ہیں اور خانہ کعبہ کے متولی اور خادم بھی ہم ہی ہیں اور حاجیوں کو پانی پلانے کا شرف بھی ہمیں ہی حاصل ہے مگر یہ شخص تو کسی شمار میں نہیں۔جب یہ تمام باتیں ابن الاشرف نے سنیں تو اُس بد بخت نے جواب دیا کہ در حقیقت تم اس شخص سے جو پیغمبری کا دعویٰ کرتا ہے بہتر ہو۔تب خدا تعالیٰ نے اُس کے حق میں اور قریش کی اس تمام جماعت کے حق میں جو بہتر کہتی تھی فرمایا که ان شاينك هُوَ الانتر یعنی ابن الاشرف نے جو حضرت مے کو ابتر کہا اور قریش کے کفار نے بھی ابتر کہا یہ خود ابتر ہیں یعنی ان کی اولاد کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا اور ہر ایک خیر و برکت سے محروم مریں گے۔اس بات کو تو آج تک کوئی ثابت نہیں کر سکا کہ وہ تمام قریش کے لوگ جو آنحضرت ﷺ کو ابتر کہتے تھے اُن کی زندگی میں ہی اُن کے تمام لڑکے مر گئے تھے یا اُن کی اولاد نہیں تھی کیونکہ اگر اُن کی اولاد نہ ہوتی تو آنحضرت ﷺ کو ہر گز وہ لوگ ابتر نہ کہتے۔یہ بات کوئی عقلمند قبول نہیں کر سکتا کہ ایک شخص خود ابتر ہو کر دوسرے کو ابتر کہے پس ماننا پڑتا ہے کہ اُن کی اولاد موجود تھی اور یہ دوسرا امر کہ پیشگوئی کے مطابق اُن لوگوں کی اولا د اُن کی زندگی میں ہی مرگئی تھی یہ امر بھی قرین قیاس نہیں اور عقل اس کو ہرگز ہا ور نہیں کر سکتی۔کیونکہ ایسا کہنے والے نہ