آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 364
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 364 باب هشتم صلى الله گے (معاذ اللہ ) حالانکہ اللہ تعالی آنحضرت محمدﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے ان سایت نو الا بتر یعنی تجھے تو ہم نے کثرت کے ساتھ روحانی اولا د عطاء کی ہے جو تجھے بے اولا د کہتا ہے وہی ابتر ہے۔آنحضرت ﷺ کا جسمانی فرزند تو کوئی تھا نہیں اگر روحانی طور پر بھی آپ کی اولاد کوئی نہیں تو ایسا شخص خود بتاؤ کیا کہلا وئے گا؟ میں تو اس کو سب سے بڑھ کر بے ایمانی اور کفر سمجھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کی نسبت اس قسم کا خیال بھی کیا جاوے۔اِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ کسی دوسرے نبی کو نہیں کہا گیا یہ تو آنحضرت ہی کا خاصہ ہے۔آپ کو اس قدر روحانی اولا د عطاء کی گئی جس کا شمار بھی نہیں ہو سکتا۔اس لئے قیامت تک یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔روحانی اولاد ہی کے ذریعہ آنحضرت ﷺ زندہ نبی ہیں کیونکہ آپ کے انوار و برکات کا سلسلہ برابر جاری ہے اور جیسے اولاد میں والدین کے نقوش ہوتے ہیں اسی طرح روحانی اولاد میں آنحضرت ﷺ کے کمالات اور فیوض کے آثار راور نشانات موجود ہیں۔الوَلَدُ سِرُّ لَابِيه۔(الحكم ال نومبر ۱۹۰۵ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقیقۃ الوحی میں ابتر کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ا واضح ہو کہ عرب کی زبان میں ابتر کا لفظ ایک وسیع لفظ ہے لسان العرب میں لکھا ہے: البر استيصال الشيء قطعًا۔البتر قطع الذنب و نحوة الابتر المقطوع الذنب۔والابتر من الحيات الذى يقال له الشيطان لا تبصره حامل الا اسقطت۔وفي الحديث كل امر ذى بـال لا يبدء فيه بحمد الله فهوابتر۔و الابتر الذي لا عقب له وبه فسر قوله تعالى إن شايلك هُوَ الْأَبْتَرُ (الكور:٢) نزلت في العاص ابن وائل وكان دخل على النبي صلى الله عليه وسلم وهو جالس فقال هذا الابتراى هذا الذي لا عقب له فقال الله جلّ ثنائه ان شانئک یا محمد هو الا بتراى المنقطع العقب و جائز ان يكون هو المنقطع عنه كل خير۔وفي حديث ابن عباس قال لما قدم ابن اشرف مكة۔قالت له قريش انت خير اهل المدينة وسيّدهم قال نعم قالوا الا ترى هذا الصنير الابيتر عن قومه يزعم انه خير منا ونحن اهل الحجيج و اهل السدانة واهل السقاية قال