آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 363
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 363 بہتر ہونے کا الزام اور اس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابتر کے الزام کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا انا اعطينك الكوثر یہ اس وقت کی بات ہے کہ ایک کافر نے کہا کہ آپ کی اولاد نہیں ہے۔معلوم نہیں اس نے ابتر کا لفظ بولا تھا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان شائِكَ هُوَ الانترن تیرا دشمن ہی بے اولا در ہے گا۔روحانی طور پر جو لوگ آئیں گے وہ آپ ہی کی اولاد سمجھے جائیں گے اور وہ آپ کے علوم وبرکات کے وارث ہوں گے اور اس سے حصہ پائیں گے۔اس آیت کو ما كان محمد ابا أحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ اللَّبِينَ (داب (1) الاحتراب کے ساتھ ملا کر پڑھو تو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔اگر آنحضرت ﷺ کی روحانی اولاد بھی نہیں تھی تو پھر معاذ اللہ آپ ابتر ٹھہرے ہیں جو آپ کے اعداء کیلئے ہے اور اِنا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو روحانی اولاد کثیر دی گئی ہے پس اگر ہم یہ اعتقاد نہ رکھیں گے کہ کثرت کے ساتھ آپ کی روحانی اولاد ہوئی ہے تو اس پیشگوئی کے بھی منکر ٹھہریں گے۔اس لئے ہر حالت میں ایک سچے مسلمان کو یہ مانا پڑے گا اور مانا چاہئے کہ آنحضرت کی تاثیرات قدسی ابدالاباد کے لئے ویسی ہی ہیں جیسی تیرہ سو برس پہلے تھیں چنانچہ ان تاثیرات کے ثبوت کے لئے ہی خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اب وہی آیات و برکات ظاہر ہورہے ہیں جو اس وقت ہو رہے تھے۔(الحکم ۲۴ مئی ۱۹۰۳ء) اگر یہ مانا جائے جیسا کہ ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ آپ کا نہ کو یہ جسمانی بیا تھا نہ روحانی تو پھر اسی طرح پیر معاذ اللہ یہ لوگ آپ کو ابتر ٹھہراتے ہیں مگر ایسا نہیں۔آپ کی شان تو یہ ہے کہ إِنَّا أَعْطَيْتُكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرانَ شَيْئكَ هُوَ الْأَبْتَرُ (الحکم ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۲ء) اگر آپ کا سلسلہ آپ سے ہی شروع ہو کر آپ ہی پر ختم ہو گیا تو آپ ابتر ٹھہریں