آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 359 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 359

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 359 ہے جس نے پردہ کا حکم دیا ہو۔اور اس وقت دیا ہو جب کہ عورت و مرد آپس میں خلا ملا رکھتے ہوں۔عورتوں کی صحبت سے لذت اٹھاتے ہوں۔بغیر کسی جھجک اور حجاب کے ایک دوسرے سے ملتے ہوں۔کیا ان سب باتوں سے روک کر پردہ کا حکم جاری کرنا اور یہ کہنا کہ مرد و عورت اس طرح ایک دوسرے سے نہ ملا کریں کسی رنگیلے کی تعلیم ہو سکتی ہے۔اگر نعوذ باللہ رسول کریم مالی میں رنگیلا پن ہونا تو چاہئے تھا کہ آپ کہتے کہ عورتوں اور مردوں کو خوب محفلیں گرم کرنی چاہئیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ملنے سے کوئی پر ہیز نہیں کرنا چاہئے۔آپس میں خوب ہنسی تمسخر کرنا چاہئے۔مگر آپ نے یہ فرمایا کہ مرد و عورت علیحدہ علیحدہ رہیں اور نامحرم کی شکل تک نہ دیکھیں۔کیا اس کو رنگیلا پن کہا جا سکتا ہے۔پھر رنگیلا پن کی خاصیت یہ ہے کہ جس میں پایا جائے وہ کسی قسم کی ہیبت اور خوف کو اپنے اوپر مستولی نہیں ہونے دیتا۔مگر رسول کریم ﷺ کی ذات دیکھو صبح شام ، رات دن خدا تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اور اس کثرت سے کرتے ہیں کہ فرانس کا ایک مشہور مصنف لکھتا ہے۔محمد ملے کے متعلق خواہ کچھ کہونگر اس کی ایک بات کا مجھ پر اتنا اثر ہے کہ میں اسے جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔اور وہ یہ کہ رات دن اٹھتے بیٹھتے سوائے خدا کے نام کے اس کی زبان سے کچھ نہیں نکلتا۔اور ہر لمحہ اور ہر گھڑی وہ خدا کی عظمت اور اس کی محبت کو پیش کرتا ہے۔وہ لکھتا ہے میں کس طرح مان لوں کہ یہ شخص جو سب سے زیادہ خدا تعالی کو پیش کرنے والا ہے خدا پر افتراء باندھتا ہے۔اب یہ ایک دشمن کی گواہی ہے جس نے رسول کریم ﷺ کی زندگی کو تنقید کے طور پر مطالعہ کیا۔پس جب کہ رسول کریم میں ہر وقت اس طرف توجہ دلاتے رہے کہ ایک بالا ہستی ہے، اس کی شان اور عظمت بیان کرتے رہے۔اس کے جلال اور جبروت سے ڈراتے رہے تو کیونکر تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ آپ میں (نعوذ باللہ ) رنگیلا پن پایا جاتا تھا۔پھر میں کہتا ہوں کہ رنگیلا پن کا موقع کھانے پینے یا مرد عورت کے تعلقات کا ہے۔مگر اس وقت بھی رسول کریم میں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ جب کھانے بیٹھو تو خدا کا نام لو۔جب کوئی چیز پینے تو لو۔لگوتو خدا کا نام لو کہ یہ سب چیزیں اس نے تم کو عطا کی ہیں۔اسی طرح جب مرد و عورت کے