آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 360 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 360

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 360 باب ہشتم + تعلقات ہوتے ہیں اور جب عیش و عشرت کرنے والے چاہتے ہیں کہ کسی قسم کا فکران کے پاس نہ آئے اور اسی غرض کے لئے شراب پیتے ہیں اس وقت کے متعلق بھی آپ فرماتے ہیں۔یہ وقت بھی خدا تعالیٰ کو بھولنے کا نہیں۔اس وقت تم دعا کرو کہ تمہارے ملنے کا نتیجہ برا نہ پیدا ہو بلکہ اچھا پیدا ہو۔پس جو انسان میاں بیوی کے جائز تعلقات کے وقت بھی کہتا ہے رنگیلا پن مت اختیار کرو بلکہ اس موقع پر بھی خدا کو یا درکھو۔جو پردہ کا حکم دے کر عورتوں کو بالکل مردوں سے علیحدہ رہنے کا حکم دیتا ہے۔جو شراب کا مینا قطعاً چھڑا دیتا ہے کیا اسے ان مذہب کے پیروؤں کا جن میں شراب جائز ہے، جن میں مرد اور عورتیں آزادی سے خلا ملا رکھتے ہیں، جن میں رنگیلا پن کی ساری باتیں پائی جاتی ہیں حق ہے کہ ایسے انسان پر اعتراض کریں۔کیا ان اقوام کا فر در سول کریم ﷺ کو رنگیلا کہہ کر اپنے سیاہ چہرہ کو اپنے مصفی آئینہ میں نہیں دیکھتا ؟ یقیناً وہ اپنا ہی گند دیکھتا ہے یا پھر وہ پاگل خانہ میں بھیجے جانے کے قابل ہے۔وہ شخص اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ رسول کریم ﷺ نے شراب پینے سے بالکل روک دیا۔پردہ کا حکم جاری کر دیا۔کھانے پینے اور مرد و عورت کے جائز تعلق کے وقت خدا کو یا در رکھنے کی تلقین کی۔موت کو ہر وقت سامنے رکھنے کی ہدایت کی۔ہر وقت خدا کے جلال سے ڈرنے اور اس کی رحمت کی امید رکھنے کا سبق پڑھایا۔اور با وجود با دشاہ ہونے کے بغیر چھنے اور پتھروں سے کوٹ کر بنے ہوئے آئے پر گزارہ کیا۔آپ کی طرف رنگیلا بین منسوب کرتا ہے۔وہ اگر اول درجہ کا خبیث اور جھوٹا نہیں تو اول درجہ کا پاگل ضرور ہے اور پاگل خانہ میں بھیجنے کے قابل ہے۔ان حالات کے ماتحت جو قوم رسول کریم ﷺ اعتراض کرتی اور الزام لگاتی ہے۔اس کے دماغ میں نقص اور عقل میں فتور ہے۔یا وہ ملک میں فتنہ پیدا کرنا چاہتی ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اگر ایسی قوم پاگل ہو گئی ہے تو خدا تعالیٰ اس کے جنون کو دور کرے اور اگر شرارت کر رہی ہے تو اس کے فتنے کو مٹائے۔ورنہ اگر یہی حالت رہی تو اتنے فتنے رونما ہوں گے جن کا مٹانا نہ گورنمنٹ کی طاقت میں ہوگا اور نہ پبلک کی طاقت میں۔(خطبات محمو د جلد ۱ صفحه ۱۷۵ تا ۱۷۸) الله