آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 357
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 357 رسول کریم ﷺ کو نعوذباللہ رنگیلا کہ کر یہی الزام اس کتاب والا آپ پر لگاتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا رسول کریم ﷺ پر کوئی عقلمند ایسے الزام لگا سکتا ہے۔ہر شخص جو آپ کی زندگی کے حالات سے واقف ہو جاتا ہے کہ سوائے اس شخص کو جو شراب کی ترنگ میں ایسی کتاب لکھے۔اور کوئی یہ الز ام آپ پر نہیں لگا سکتا۔اور یہ دیکھا گیا ہے کہ شرابی جب شراب پی کر مخمور ہو جاتے ہیں تو دوسروں کو کہتے ہیں کہ ہم تو ہوش میں ہیں تم نشہ میں ہو۔یہی اس شخص کا حال ہے جس نے یہ کتاب لکھی۔واقعی اس نے شراب کے نشہ میں یا فطرت کی گندگی کی وجہ سے اپنے نفس کے عیب اس مصفی آئینے میں دیکھے جس سے بڑھ کر نہ کوئی مصفی آئینہ پیدا ہوا اور نہ ہوگا۔جس طرح ایک بد شکل اور سیاہ رو جب شیشہ میں اپنی شکل دیکھے تو سمجھے کہ یہ شیشہ کا قصور ہے اسی طرح اس کی حالت ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کتاب کا مصنف خودرنگیلا ہے جسے نہ خدا کا خوف ہے نہ دنیا کا ڈر۔ورنہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کو جب دیکھا جائے تو اس کا کوئی حصہ ایسا + نہیں نظر آتا جس میں رنگیلا پن کا شائبہ بھی پایا جائے اور اس بات کو دشمن بھی مانتے ہیں۔میں نے بتایا ہے رنگیلا اسے کہا جاتا ہے جو شراب میں بدمست رہے اور اس طرح زندگی بسر کرے کہ بدمستی یا لا ابالی میں کسی وجہ سے دنیا کے غموں کو پاس نہ آنے دے۔پس پہلی چیز رنگیلے شخص کے لئے بدمستی ہے۔لیکن ہر شخص جسے عقل سے ذرا بھی مس ہو وہ جانتا ہے کہ دنیا سے شراب کا مٹانے والا ایک ہی شخص ہے یعنی محمد اگر نعوذباللہ آپ میں رنگیلا پن ہوتا تو اس وقت جب کہ اس کتاب کے لکھنے والے کے باپ دادا مٹکوں کے ملکے شراب کے اڑاتے تھے۔بلکہ دیوی دیوتا ؤں کو بھی چلاتے تھے۔اس وقت محمد صلی اللہ شراب کی ممانعت کا حکم نہ دیتے۔مگر اس زمانہ میں کہ آپ کی قوم دن رات شراب میں مست رہتی تھی آپ نے شراب کی ممانعت کا حکم دیا۔آپ کے اس حکم کا اثر اور تصرف دیکھو۔کچھ لوگ ایک جگہ بیٹھے شراب پی رہے تھے اور نشہ کی حالت میں تھے کہ باہر سے آواز آئی شراب حرام کر دی گئی۔اس وقت ایک شخص نے جو اس مجلس میں شامل تھا کہا اٹھ کر پوچھو تو سہی کہ اس بات کی تفصیل کیا ہے۔مگر اس نشہ کی حالت میں ایک دوسر اشخص سونٹھا اٹھا کر شراب کے میکے پر مارتا ہے اور کہتا ہے کہ جب ایک شخص کہہ رہا ہے کہ اور