آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 355
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 355 با وجود بے علمی اور جہالت کے آنحضرت ﷺ پر جو سید المطھرین ہیں زنا کی تہمت لگائی۔تو اس پلید کجھوٹ اور افترا کا یہی جواب تھا۔جو آپ کو دیا گیا۔ہم نے بہتیرا چاہا کہ آپ لوگ بھلے مانس بن جاویں۔اور گالیاں نہ دیا کریں۔مگر آپ لوگ نہیں مانتے۔آپ نا حق اہل اسلام کا دل دکھاتے ہیں آپ نہیں جانتے کہ ہمارے نزدیک وہ نادان ہر ایک زنا کار سے بدتر ہے جو انسان کے پیٹ سے نکل کر خدا ہونے کا دعوی کرے۔اگر آپ لوگ مسیح کے خیر خواہ ہوتے تو ہم سے جناب مقدس نبوی کے ذکر میں بہ ادب پیش آتے ایک صحیح حدیث میں ہے کہ تم اپنے باپ کو گالی مت دو لوگوں نے عرض کی کوئی باپ کو بھی گالی دیتا ہے آپ نے فرمایا ہاں جب تو کسی کے باپ کو گالی دے گا تو وہ ضرور تیرے باپ کو بھی گالی دے گا تب وہ گالی اس نے نہیں دی بلکہ تو نے دی ہے اسی طرح آپ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ کے بودے جھوٹے خدا کی بھی اچھی طرح بھگت سنواری جائے۔اب ہم یہ خط بطور نوٹس کے آپ کو بھیجتے ہیں کہ اگر پھر ایسے نا پا کس لفظ آپ نے استعمال کئے۔اور آنحضرت ﷺ کی جناب میں نا پاک تہمت لگائی تو ہم بھی آپ کے فرضی اور جعلی خدا کی وہ خبر لیں گے جس سے اس کی تمام خدائی ذلت کی نجاست میں گرے گی۔اسے نالائق کیا تو اپنے خط میں سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو زنا کی تہمت لگاتا ہے اور فاسق فاجر قرار دیتا ہے اور ہمارا دل دکھاتا ہے۔ہم کسی عدالت کی طرف رجوع نہیں کرتے اور نہ کریں گے مگر آئندہ کے لئے سمجھاتے ہیں کہ ایسی ناپاک باتوں سے باز آ جاؤ اور خدا سے ڈرو جس کی طرف پھرنا ہے اور حضرت مسیح کو بھی گالیاں مت دو۔یقینا جو کچھ تم جناب مقدس نبومی کی نسبت بُرا کہو گے۔وہی تمہارے فرضی مسیح کو کہا جائے گا مگر ہم اس سے صحیح کو مقدس اور بزرگ اور پاک جانتے اور مانتے ہیں جس نے نہ خدائی کا دعوی کیا نہ بیٹا ہونے کا اور جناب محمد مصطفی احمد جتنی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی خبر دی اور ان پر ایمان لایا۔فقط “ نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفر ۲ ۳۹۵۲۳۹)