آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 354
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 354 باب هشتم ہونے کے باعث ازواج سے کچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔اس لئے یورپ کی عورتیں نہایت قابل شرم آزادی سے فائدہ اٹھا کر اعتدال کے دائرہ سے اِدھر اُدھر نکل گئیں اور آخر ما گفتی فسق و فجور تک نوبت پہنچی۔اے نادان ! فطرت انسانی اور اس کے بچے پاک جذبات سے اپنی بیویوں سے پیار کرنا اور حسن معاشرت کے ہر قسم جائز اسباب کو برتنا انسان کا طبعی اور اضطراری خاصہ ہے اسلام کے بانی علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسے برتا اور اپنی جماعت کو ایک نمونہ د یا سچ نے اپنے نقص تعلیم کی وجہ سے اپنے ملفوظات اور اعمال میں یہ کمی رکھ دی مگر چونکہ طبعی تقاضا تھا اس لئے یورپ اور عیسویت نے خود اس کے لئے ضوابط نکالے۔اب تم خود انصاف سے دیکھ لو کہ گندی سیاہ بدکاری اور ملک کا ملک رنڈیوں کا نا پاک چکلہ بن جانا ہائیڈ پارکوں میں ہزاروں ہزار کا روز روشن میں کتوں اور کیوں کی طرح اوپر تلے ہونا اور آخر اس نا جائز آزادی سے تنگ آ کر آہ و فغان کرنا اور برسوں دیوشیوں اور سیاہ روئیوں کے مصائب جھیل کر اخیر میں مسودہ طلاق پاس کرانا یہ کس بات کا نتیجہ ہے۔کیا اس قدوس مطهر مزگی نبی امی کی معاشرت کے اس نمونہ کا جس پر خباثت باطنی کی تحریک سے آپ معترض ہیں یہ نتیجہ ہے۔اور ممالک اسلامیہ میں یہ تین اور زہریلی ہوا پھیلی ہوئی ہے یا ایک سخت ناقص نالائق کتاب پولوی انجیل کی مخالف فطرت اور ادھوری تعلیم کا یہ اثر ہے اب دوزانو ہو کر بیٹھو اور یوم الجزا کی تصویر کھینچ کر غور کرو۔ہاں مسیح کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت جو اعتراض ہے اس کا جواب بھی کبھی آپ نے سوچا ہوگا ہم تو سوچ کر تھک گئے اب تک کوئی عمدہ جواب خیال میں نہیں آیا کیا ہی خوب خدا ہے جس کی دادیاں اور نانیاں اس کمال کی ہیں آپ یا درکھیں کہ ہم بقول آپ کے مرد میدان بن کر ہی رسالہ لکھیں گے اور آپ کو دکھائیں گے کہ وساوس کی بیخ کنی اسے کہتے ہیں اس جاہل گمراہ کا شکست دینا کون سے بڑی بات ہے جو انسان کو خدا بناتا ہے مگر آپ از راہ مہربانی ان چند باتوں کا جو میں نے دریافت کی ہیں۔ضرور جواب لکھیں۔اور ان الفاظ سے ناراض نہ ہوں جو لکھے گئے ہیں کیونکہ الفاظ محل پر چسپاں ہیں۔اور آپ کی شان کے شایان ہیں۔جس حالت میں آپ نے